سری نگر ، 12 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام ) نیشنل کانفرنس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے جمعہ کے روز یہاں راج بھون میں ریاستی گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کرکے موصوف سے کہا کہ گذشتہ روز تصادم آرائی میں مارے گئے جنگجو پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر منان وانی جیسے پڑھے لکھے نوجوانوں کو انکاؤنٹروں میں ابدی نیند سلا دینے کے بجائے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش ہونی چاہئے ۔وفد نے گورنر سے کہا کہ نئی دہلی کو کشمیریوں کے دل جیتنے کے لئے اعتماد سازی کے اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔ این سی کے ایک ترجمان نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کی قیادت میں پارٹی کے ایک اعلیٰ سطح وفد نے جمعہ کے روز ریاستی گورنر مسٹر ملک کے ساتھ ملاقات کی۔ وفد میں سینئر لیڈران عبدالرحیم راتھر، چودھری محمد رمضان، میر سیف اللہ اور سکینہ ایتو بھی شامل تھیں۔ ترجمان کے مطابق این سی وفد نے گورنر سے کہا کہ گرفتاریوں، ہلاکتوں ، مظالم اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے بیچ حالات کی بہتری کی کوئی اُمید نہیں کی جاسکتی۔ افہام و تفہیم، مفاہمت، مصلحت اور مذاکرات سے ہی ریاست میں امن لوٹایا جاسکتا ہے ، اس وقت ایک ایسا ماحول قائم کرنے ضرورت ہے جس میں تمام متعلقین بشمول حریت کے ساتھ بات چیت کا راستہ ہموار ہو اور گذشتہ4سال سے جاری غیر یقینیت، بے چینی اور افراتفری کا خاتمہ کیا جاسکے ۔ وفد نے گورنرموصوف کو ریاست خصوصاً وادی کی زمینی صورتحال سے آگہی دلائی اور کہا کہ اس وقت انسانی حقوق کی پامالیاں عروج پر ہیں، نوجوان عدم تحفظ کے شکار ہیں، بے گناہوں کو پکڑا جارہا ہے ، بے گناہ مارے جارہے ہیں اور سیاسی ورکر قتل ہورہے ہیں۔ ایسے حالات میں نوجوانوں کا غصہ کیسے کم ہوسکتا ہے ؟ انہوں نے گورنر ملک کو وہ بیان یاد دلایا جس میں موصوف نے کہا تھا کہ دلی سے غلطیاں ہوئیں ہم وہ غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور ہمیں جنگجوؤں کو نہیں بلکہ جنگجوئیت کو مارنا ہوگا۔ وفد نے گورنر موصوف سے کہا کہ گذشتہ روز تصادم آرائی میں مارے گئے جنگجو پی ایچ ڈی سکالر ڈاکٹر منان وانی جیسے پڑھے لکھے نوجوانوں کو انکاؤنٹروں میں ابدی نیند سلا دینے کے بجائے انہیں مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش ہونی چاہئے اور اس کے لئے پہلے ایک ساز گار ماحول بنایا جائے ۔