ممبئی۔/14نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) معیشت پر کئے گئے ایک حالیہ سروے کے مطابق ایسے ہندوستانی خاندان جن کا کوئی فرد واحد بھی بیرون ملک ملازمت کرتا ہے تو اس خاندان کو کم سے کم 2.3 لاکھ روپئے سالانہ حاصل ہوتے ہیں ۔ یاد رہے کہ رقومات کا تبادلہ کرنے والی ویسٹرن یونین اور نیلسن کی جانب سے یہ سروے ہندستان کی سات ریاستوں گجرات، مہاراشٹرا، کیرالا ، مغربی بنگال، پنجاب، تملناڈو اور اتر پردیش میں کیا گیا تھا جس کے مطابق زر مبادلہ کا 72فیصد روز مرہ کی ضروریات کی تکمیل، 62فیصد طبی اخراجات اور 58 فیصد تعلیمی اخراجات کے لئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ گجرات، کیرالا، مہاراشٹرا اور مغربی بنگال میں زرمبادلہ حاصل کرنے والے 50فیصد خاندان اپنے مکانات کی درستگی کیلئے اور پنجاب ، تملناڈو اور اُتر پردیش میں رقومات حاصل کرنے والے 90فیصد افراد انشورنس، تعلیمی اور زائد تعلیمی نصاب کے علاوہ کی مد میں رقومات خرچ کرتے ہیں۔ دریں اثناء ویسٹرن یونین کے ہندوستان اور جنوبی ایشیاء کے وی پی اور ایم ڈی کرن شیٹی نے بتایا کہ بیرون ملک سے بھیجی جانے والی رقم سے ہندوستانیوں کے معیار زندگی میں بہتری کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبہ میں بھی ان کی رسائی آسان ہوجاتی ہے۔ رقومات بھیجنے والے 77فیصد افراد کا بھی یہی خیال ہے کہ بیرون ملک سے کمائی گئی رقم ہندوستان بھیجنے سے ان کے خاندان کی معاشی حالت میں بہتری آئی اور ان کے بہتر مستقبل کی راہ ہموار ہوئی۔