تیل کمپنیوں کو بدستور روزانہ کی اساس پر پٹرول و ڈیزل کی شرحیں طے کرنے کی آزادی: دھرمیندر پردھان
نئی دہلی 8 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیر تیل دھرمیندر پردھان نے آج کہاکہ ایندھن کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے کے معاملہ میں پیچھے پلٹنے کا کوئی سوال ہی نہیں حالانکہ حکومت نے سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں ایک روپیہ فی لیٹر کی سبسیڈی دینے کے لئے کہا ہے۔ یہاں دی انرجی فورم میں خطاب کرتے ہوئے دھرمیندر نے کہاکہ تیل کی بین الاقوامی قیمتیں 4 سال کی سب سے اونچی قیمت 85 امریکی ڈالر فی بیارل تک پہونچ چکی ہیں جو ایسا چیلنج ہے جس کے نتیجہ میں ایندھن کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں حالانکہ ایک مرتبہ اکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کی گئی اور پبلک سیکٹر یونٹوں نے ایندھن کے لئے سبسیڈی فراہم کی ہے۔ پردھان نے کہاکہ اُنھوں نے سعودی وزیر تیل خالد الفالح سے بات کی ہے اور اُنھیں اوپیک کے جون والے عہد کی یاد دہانی کرائی کہ پیداوار میں ایک ملین بیارل فی یوم کا اضافہ کیا جائے گا تاکہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے میں مدد مل سکے۔ وزیر تیل نے کہاکہ ہوسکتا ہے اوپیک جون کے فیصلے کے مطابق عمل نہیں کررہا ہے۔ تیل کی اونچی بین الاقوامی قیمتوں اور روپئے کی قدر میں اضافہ کی دونوں باتوں نے ملکر درآمدات کو زیادہ مہنگا بنادیا ہے اور اِس کے نتیجہ میں ریٹیل پمپ کی شرحیں بڑھ رہی ہیں۔ پٹرول کی قیمت پیر کو 21 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 28 پیسے فی لیٹر بڑھائی گئی۔ دہلی میں پٹرول کی قیمت بڑھنے کے بعد 82.03 روپئے فی لیٹر ہوگئی اور اُسی طرح ڈیزل کی قیمت 73.82 روپئے ہوگئی۔ پردھان نے کہاکہ پٹرول اور ڈیزل پر اکسائز ڈیوٹی میں فی لیٹر 1.50 روپئے کی کٹوتی اور تیل کی پبلک سیکٹر کمپنیوں کو فی لیٹر ایک روپئے کا نقصان برداشت کرنے کے لئے کہنا کاک مقصد صارفین کو راحت پہونچانا رہا۔ بعدازاں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وزیر تیل نے کہاکہ حکومت صارفین کے معاملے میں سنجیدہ ہے اور اُن کے مفاد میں فیصلہ کیا ہے۔ تیل کی پبلک سیکٹر کمپنیوں کو ایندھن کے لئے سبسیڈی فراہم کرنے کے لئے کہنے کے بارے میں اُنھوں نے کہاکہ اِن کمپنیوں نے صارفین کو اونچی قیمتوں سے ڈھال فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایندھن کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کرنے سے پیچھے مڑنے والا اقدام نہیں۔ ایندھن کی قیمتیں بدستور روزانہ کی اساس پر طے کی جارہی ہیں جس میں بین الاقوامی شرح اور بیرونی زرمبادلہ جیسے عناصر کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ انڈین آئیل کارپوریشن کے چیرمین سنجیو سنگھ نے کہاکہ تیل کی کمپنیوں کو شرحیں روزانہ کی اساس پر تبدیل کرنے کی بدستور آزادی حاصل ہے اور ایک روپیہ فی لیٹر کی سبسیڈی عارضی اقدام ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس فیصلے سے تیل کمپنیوں کے منافع میں جاریہ مالی سال تقریباً 4 ہزار تا 4,500 کروڑ روپئے کا فرق آئے گا۔ پردھان نے کہاکہ مرکز نے اپنے حصے کا کردیا ہے اور اب ریاستوں کو آگے آتے ہوئے سیلز ٹیکس یا ویاٹ میں کٹوتی کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کسی ریاست کا نام لئے بغیر کہاکہ کئی ریاستیں ایسا کرچکی ہیں۔