حیدرآباد /21 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں ٹی آر ایس نے اپنے پانچویں امیدوار کو انتخابی میدان میں اتارتے ہوئے ایم ایل سی انتخابات کے لئے رائے دہی کو یقینی بنادیا۔ کانگریس اور تلگودیشم نے بھی اپنا ایک ایک امیدوار میدان میں اتارا ہے، جب کہ پڑوسی ریاست آندھرا پردیش میں بلامقابلہ انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ ایم ایل اے کوٹہ سے تلنگانہ میں 6 ایم ایل سیز اور آندھرا پردیش میں 4 ایم ایل سیز کے انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آج آخری تاریخ تھی۔ آندھرا پردیش کے لئے حکمراں تلگودیشم کی جانب سے جناب احمد شریف اور سابق اسپیکر مسز پرتبھا بھارتی نے اپنے پرچہ جات نامزدگی داخل کی۔ علاوہ ازیں تلگودیشم کی حلیف جماعت بی جے پی کے امیدوار ویرا راجو اور وائی ایس آر کانگریس کے امیدوار گووند ریڈی بھی اپنے پرچہ جات نامزدگی داخل کرچکے ہیں۔ اس طرح چار نشستوں کے لئے صرف چار امیدواروں کی جانب سے پرچہ جات نامزدگی داخل کرنے کے سبب آندھرا پردیش میں بلامقابلہ انتخابی عمل پورا ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ تلنگانہ اسمبلی میں عددی طاقت کے لحاظ سے حکمراں ٹی آر ایس کو چار، کانگریس کو ایک اور بی جے پی کی تائید سے تلگودیشم کو ایک نشست پر کامیابی حاصل ہوسکتی تھی، تاہم ٹی آر ایس نے اپنے پانچ امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارکر رائے دہی کو یقینی بنادیا ہے۔ ٹی آر ایس کی جانب سے ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری، ریاستی وزیر ٹی ناگیشور راؤ کے ساتھ کانگریس سے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے یادو ریڈی، ودیاساگر اور وینکٹیشورلو کے ذریعہ بھی پرچہ جات نامزدگی داخل کرائے گئے ہیں۔ کانگریس سے مسز اے للیتا اور تلگودیشم سے نریندر ریڈی نے بھی پرچہ جات نامزدگی داخل کئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ تلنگانہ قانون ساز کونسل سے تلگودیشم کے صفایا کے لئے مجلس، سی پی آئی اور سی پی ایم کی تائید حاصل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ تلگودیشم اور کانگریس کے 8 ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوچکے ہیں۔ واضح رہے کہ ایک ایم ایل سی نشست پر کامیابی کے لئے 18 ارکان اسمبلی کی تائید ضروری ہے، جب کہ کانگریس اور بہوجن سماج پارٹی کے بشمول ٹی آر ایس کے جملہ 75 ارکان ہیں۔ بی جے پی کی تائید کے باوجود تلگودیشم کے پاس دو ارکان کی کمی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ٹی آر ایس نے اپنے ووٹوں کو پہلی اور دوسری ترجیحات کے ذریعہ اپنے پانچویں امیدوار کو کامیاب بنانے کی حکمت عملی تیار کی ہے، تاہم کانگریس کی ایک نشست پر کامیابی یقینی ہے۔ ٹی آر ایس کا ادعا ہے کہ اس کے پاس پانچویں امیدوار کو کامیاب بنانے کے لئے درکار ارکان کی تعداد موجود ہے۔ علاوہ ازیں دیگر جماعتوں کے ارکان اسمبلی کی بھی تائید ملنے کا امکان ہے۔ دریں اثناء کانگریس اور تلگودیشم نے حکمراں ٹی آر ایس کی جانب سے پانچویں امیدوار کو میدان میں اتارنے پر سخت اعتراض کیا اور امکان ہے کہ دونوں جماعتوں کی جانب سے رائے دہی کے لئے وہپ جاری کرتے ہوئے کانگریس اور تلگودیشم کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کرکے ٹی آر ایس میں شامل ہونے والے امیدواروں کو پریشان کیا جائے گا اور وہپ کی خلاف ورزی پر ان کی رکنیت منسوخ کرنے کے لئے اسپیکر اسمبلی سے نمائندگی کی جائے گی۔