نئی دہلی۔20 جون (سیاست ڈاٹ کام) مراٹھی قلمکار اور سماجی کارکن ونئے ہاردیکر نے ایمرجنسی کے دوران جیل میں گئے لوگوں کے لئے بی جے پی کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت کی پینشن دینے کی پیشکش کو قبول نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہاردیکر کی 1978 کی کتاب ‘ جناچا پرواہو چالیلا ‘ کوایمرجنسی پر مصدقہ تبصرہ سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا (پینشن کا) فیصلہ مختلف وجہوں سے غیراخلاقی ہے۔ انہوں نے جنوری، 1976 میں ستیہ گرہ میں حصہ لیا تھا اور گرفتاری دی تھی۔ ان کو پونے کے قریب یرودا جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا، ‘ جو جیل میں ڈالے گئے تھے، وہ دو طرح کے لوگ تھے۔ ایسے لوگ، جنہوں نے ستیہ گرہ کیا (اور جنہوں نے گرفتاری دی تھی) اور ایسے لوگ جن کو کسی مظاہرہ سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس میں مسلم لیگ اور آنند مارگ جیسی فرقہ پرست تنظیموں کے کارکن بھی تھے۔ کچھ نکسلی بھی حراست میں لئے گئے تھے۔ کیا وہ بھی اس پینشن کے حقدارا ہیں؟ ‘ انہوں نے سوال کیا، ‘ ایمرجنسی میں جیل میں ڈال دئے گئے ۔