ایشیاء کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ضرور ی : اوباما

برسبین۔ 15 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے کہا کہ ایشیا پیسیفک خطہ میں سکیورٹی کا انحصار بین الاقوامی قانون پر منحصر ہونا چاہئیے ۔ چھوٹے ملکوں کو ہراساں کرکے سکیورٹی کی یقین دہانی نہیں کی جاسکتی ۔ چھوٹے اور بڑے ممالک کے درمیان باہمی اتحاد سے ہی سکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ جی 20 چوٹی کانفرنس سے قبل صدر اوباما نے آسٹریلیا کے شہر برسبین میں طلباء سے خطاب کرتے ہوئے زور دے کر کہا کہ ایشیاء کی سلامتی باہمی اتحاد کی بنیادوں پر ہونا چاہئیے ۔ ایشیاء پیسیفک میں اتحادیوں کے ساتھ امریکہ کے عہد پر کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ سکیورٹی کا معاملہ دباؤ ڈالنے ، زبردستی کرنے اور چھوٹے ملکوں کو ہراساں کرنے پر نہیں ہونا چاہئیے ۔ اس کے لئے بین الاقوامی قوانین پر عمل کیا جائے ۔ جی 20 چوٹی کانفرنس میں امریکہ ، چین اور روس کے سربراہان کے علاوہ 17 ممالک کے قائدین حصہ لے رہے ہیں جن میں وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں ۔ معاشی ترقی کے فروغ پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے اجلاس سے قبل یہاں موجود دیگر ممالک کے سربراہوں پر زور دیا کہ وہ اس اجلاس میں یوکرین کے بحران

اور ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات جیسے مسئلہ کے ساتھ ساتھ ماحولیات میں تبدیلی پر بھی غور کریں ۔ اجلاس سے قبل صدر روس ولاڈیمرپوٹین کو یوکرین مسئلہ پر مغربی ممالک کے لیڈروں کی جانب سے شدید تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ یوکرین میں فوجی کارروائی پر مغربی قائدین نے صدر روس پر شدید نکتہ چینی کی تو وہ برہمی کے ساتھ چوٹی کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے روس واپس ہوگئے ۔ روس کی فوجی کارروائی کے خلاف مغرب نے سخت رویہ اختیار کیا ہے ۔ مغربی ملکوں نے روس پر مزید تحدیدات نافذ کرنے کا بھی اشارہ دیا ۔ جس کے بعد ولاڈیمیر پوٹین اجلاس سے نکل کر روس واپس ہوگئے ۔ وزیراعظم آسٹریلیا ٹونی ابیٹ نے بتایا کہ جی 20 چوٹی کانفرنس میں تمام قائدین روزگار کے مواقع پیدا کرنے ٹیکس کی چوٹی کرنے والوں کی نشاندہی اور عالمی معیشت کو مضبوط بنانے پر غور کریں گے ۔