اقلیتی طلبہ کیلئے جناب زاہد علی خاں کی مہم رنگ لائی
پانچ لاکھ روپئے بنک لون کی بھی سہولت ، کے سی آر حکومت کا غیر معمولی اقدام ، جناب عمر جلیل اور محمد جلال الدین اکبر کا قابل ستائش رول
محمد ریاض احمد
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مئی : ارادے نیک اور حوصلے بلند ہوں تو کامیابی و کامرانی کی راہیں نکل ہی آتی ہیں اور معاملہ جب ملت کی تعلیمی و معاشی ترقی کا ہو تو اس کے لیے حکومت اور اعلیٰ حکام کو بار بار توجہ دلانے کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ کام ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں و ادارہ سیاست بخوبی انجام دیتے ہیں ۔ جب بھی ملت کی تعلیمی و معاشی ترقی کا سوال پیدا ہوا سیاست نے اسے یقینی بنانے کی خاطر اخبار کے ذریعہ اسے ایک تحریک کی شکل دینے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ اس کی تازہ ترین مثال تعلیم یافتہ اقلیتی نوجوانوں کے لیے بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں داخلوں سے متعلق حکومت تلنگانہ کی اسکیم ہے ۔ حکومت ہند نے کچھ برس قبل درج فہرست طبقات و قبائل سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بیرونی ملکوں بشمول امریکہ ، برطانیہ ، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، جرمنی اور سنگاپور کی یونیورسٹیز سے حصول اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر ودیاندھی اسکیم کا آغاز کیا ۔ اس اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے آندھرا اور تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے درج فہرست طبقات و قبائل کے کئی طلباء و طالبات نے بیرونی ملکوں کا رخ کیا اور سردست وہ وہاں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔
اس اسکیم کے بارے معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ہی ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے بھی بیرونی ملکوں کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں مسلم طلبہ کے لیے بھی ایسی ہی اسکیم شروع کرنے کا مطالبہ کیا اور اس ضمن میں 25 دسمبر 2014 کو چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو ایک خصوصی مکتوب روانہ کرتے ہوئے توجہ دلائی ساتھ ہی مسلمانوں کی ترقی و بہبود کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جارہے اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مبارکباد بھی پیش کی ۔ اپنے مکتوب میں جناب زاہد علی خاں نے چیف منسٹر پر واضح کیا تھا کہ ریاست میں مسلم اقلیت تعلیمی و معاشی لحاظ سے کافی پسماندہ ہیں ۔ اس کے باوجود بعض غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طلباء وطالبات کا تعلیمی مظاہرہ اس قدر شاندار ہے کہ وہ بیرونی ممالک کی جامعات سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے خواہاں ہے تاہم ان کی غربت انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے ۔ ایسے میں اگر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ ایس ٹی ، ایس سی طلباء کے مماثل اقلیتی طلبہ کے لیے بھی ایسے اسکیم شروع کرتے ہیں تو ملک کی دیگر ریاستی حکومتوں کو ایک اچھا پیام جائے گا ۔ اس مکتوب کے علاوہ سیاست میں گذشتہ 8 ماہ کے دوران اس ضمن میں 8 سے زائد رپورٹس کی اشاعت عمل میں لاتے ہوئے حکومت اور اعلیٰ حکام کو بار بار توجہ دلائی ۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ان رپورٹس کی اشاعت کے ساتھ ہی ایسے بے شمار غریب ہونہار طلبہ ایڈیٹر سیاست سے رجوع ہوئے جن کا تعلیمی مظاہرہ غیر معمولی رہا ۔ ان میں ڈرائیوروں ، الیکٹریشن ، ٹیلرس ، خانگی اسکولی ٹیچروں کے بچے شامل ہیں ۔
ان طلبہ نے بی ای ، بی ٹیک ، ایم ٹیک ، ایم بی اے ، ایم سی اے ، سی اے میں 80 فیصد نمبرات بھی حاصل کئے ہیں تاہم بیرونی یونیورسٹیوں میں داخلہ کی اہلیت رکھنے کے باوجود غربت کے نتیجہ میں وہ ان یونیورسٹیز میں داخلوں سے محروم ہورہے تھے ۔ اب اچھی بات یہ ہوئی کہ حکومت تلنگانہ نے اس ضمن میں ایک انقلابی اور قابل تقلید قدم اٹھاتے ہوئے ایک سرکاری حکمنامہ نمبر 24 مورخہ 19 مئی 2015 جاری کیا ۔ اس جی او کی اجرائی میں جہاں سیاست اور ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کا اہم رول رہا وہیں محکمہ اقلیتی بہبود کے سکریٹری سید عمر جلیل آئی اے ایس اور محکمہ اقلیتی بہبود و تلنگانہ میناریٹی فینانس کارپوریشن کے ڈائرکٹر جناب محمد جلال الدین اکبر کے رول کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ اپنی سنجیدگی اور دیانت داری کے باعث ایک منفرد اور علحدہ پہچان رکھنے والے ان دونوں مسلم اعلیٰ عہدیداروں نے مسلسل کوششوں نے بھی کام کر دکھایا ۔ چنانچہ اب ملت کے غریب طلبہ کو بھی بآسانی بیرونی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے مواقع حاصل ہوں گے ۔ راقم الحروف نے اس سلسلہ میں جناب محمد جلال الدین اکبر سے بات چیت کی ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کا محکمہ اقلیتی بہبود ، اقلیتوں کے لیے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم اسکیم کا جاریہ سال سے ہی آغاز کررہا ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب عمر جلیل آئی اے ایس کی زبردست ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود اقلیتوں کے لیے حکومت کی تمام اسکیمات پر کامیاب عمل آوری کو یقینی بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ویسے بھی چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی حکومت ریاست تلنگانہ میں اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کی سماجی ، تعلیمی اور معاشی ترقی و بہبود سے کافی دلچسپی رکھتی ہے ۔
اس ضمن میں انہوں نے اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالر شپس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کے سی آر حکومت نے اقلیتی طلبہ کے لیے فیس باز ادائیگی اسکیم کو جاری رکھتے ہوئے بے شمار طلبہ کو پیشہ وارانہ اور دیگر گریجویٹ کورس کی تکمیل میں غیر معمولی مدد کی ہے ۔ کے سی آر اقلیتی طلبہ کی غربت ان کی مجبوریوں سے اچھی طرح واقف ہیں ۔ چنانچہ ان کی حکومت نے اس نئی اسکیم کے لیے بجٹ میں 25 کروڑ روپئے منظور کئے ہیں ۔ اس اسکیم کے تحت ہر سال 500 اقلیتی طلبہ کو بیرونی یونیورسٹیز سے پوسٹ گریجویشن / ڈاکٹریٹ کے لیے مالی اعانت فراہم کی جائے گی ۔ جناب محمد جلال الدین اکبر کے مطابق اس اسکیم کے لیے ایسے طلباء و طالبات اہل ہیں جن کے خاندان کی سالانہ آمدنی 2 لاکھ روپیوں سے کم ہو ۔ ملازم کی صورت میں آجر سے تنخواہ کا سرٹیفیکٹ پیش کرنا ضروری ہے ۔ تمام درخواست گذاروں کو چاہئیے کہ وہ می سیوا کے ذریعہ انکم سرٹیفیکٹس حاصل کریں ۔ ملازم ہونے کی صورت میں آجر سے ماہانہ تنخواہ کی سلپ بھی حاصل کر کے درخواست کے ساتھ منسلک کی جائے ۔ اس اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کی عمر 30 سال سے زائد نہ ہو ۔ بیرونی یونیورسٹیز کے پوسٹ گریجویٹ کورس میں داخلہ کے خواہاں امیدواروں کے لیے انجینئرنگ / مینجمنٹ / سائنس ، زرعی سائنس / میڈیسن اور نرسنگ / سوشیل سائنس / ہیومانٹیز میں 60 فیصد سے زائد نمبرات کا حاصل کرنا ضروری ہے
اس کے برعکس پی ایچ ڈی کورس میں داخلہ کے خواہاں طلبہ کا پی جی کے مذکورہ کورس میں 60 فیصد سے زائد نمبرات ضروری ہیں ۔ اس کے علاوہ ان طلبا وطالبات کے لیے TOFEL / IELTS / GRE / GMAT میں کامیابی ، بیرونی ملک کی کسی مسلمہ یونیورسٹی میں داخلہ ، پاسپورٹ کا حامل ہونا بھی ضروری ہے ۔ جناب جلال الدین اکبر کے مطابق اقلیتوں میں مسلم ، سکھ ، عیسائی ، جین وغیرہ شامل ہیں ۔ اس میں ضلع واری سطح اور آبادی کے لحاظ سے طلبہ کو مواقع فراہم کئے جائیں گے اور باضابطہ ایک سلیکشن کمیٹی اہل امیدواروں کا انتخاب کرے گی ۔ اس اسکیم کے تحت طلبہ کو دو اقساط میں دس لاکھ روپئے دئیے جائیں گے ۔ اس کے علاوہ وہ کسی بھی قومیائے بنک سے 5 لاکھ روپئے تعلیمی قرض حاصل کرنے کے اہل بھی ہونگے ۔ بہر حال سیاست ہیلپ لائن بھی اس اسکیم سے استفادہ کیلئے طلبہ کی رہنمائی کررہا ہے ۔ مزید تفصیلات کے لیے سیاست ہیلپ لائن کے سید خالد محی الدین اسد سے 9391160364 پر ربط کیا جاسکتا ہے ۔۔