حیدرآباد ۔ 20 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ایس ایس سی کے نتائج جاری ہونے کے بعد کامیاب امیدواروں کے لیے اور ناکام امیدواروں کے لیے مواقع پر ایک نہایت معلوماتی پروگرام دکن ریڈیو 107.8 کے راست نشریہ میں رکھا گیا ہے ۔ اس میں تعلیم اور کورسز سے متعلق بے شمار سوالات کو شامل کیا گیا جن کے موثر انداز میں ماہر تعلیم ایم اے حمید نے جوابات دئیے ۔ معلومات فراہم کی اور مفید مشورے دئیے ۔ اس سال ایس ایس سی کے طریقہ امتحان میں تبدیلیاں کی گئی نئے نصاب اور نئے طریقہ سے امتحان ہونے کی وجہ نتائج پر اثر پڑا ۔ تلنگانہ ریاست میں 77 فیصد طلبہ نے کامیابی حاصل کی جو سال گذشتہ سے 8 فیصد کم ہے ۔ ناکام امیدواروں کو تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لیے حکومت اڈوانسڈ سپلیمنٹری ( انسٹنٹ ) امتحان رکھی ہے ۔ اب ناکام امیدواروں کو مشورہ دیا گیا کہ نشانات بڑھنے کے انتظار میں نہ رہے بلکہ جس مضمون میں فیل ہوئے ہو اس مضمون کی انسٹنٹ امتحان کی تیاری کریں ۔ کامیاب امیدواروں کو انٹر میڈیٹ میں گروپ مضامین اور کالج کا انتخاب اہم ہے ۔
جس سے ان کا کیرئیر بنے گا اور مستقبل کے کورسز کے لیے اہل ہوں گے ۔ آج کے پروگرام میں جناب زاہد فاروقی پروگرام کوآرڈینٹر و ریڈیو اسٹیشن ماسٹر نے دن بھر ریکارڈ کئے گئے سوالات کو شامل کرتے ہوئے ان کے جوابات دئیے اور دوران پروگرام راست پوچھے جانے والے سوالات کے برسر موقع جوابات دئیے گئے ۔ اس کے علاوہ آج کے پروگرام کی ایک خصوصیت یہ رہی کہ اس میں ماس کمیونیکیشن کے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کی طالبہ مس گریما نے قومی سطح کے کورسز سے متعلق سوالات کیے اور ایس ایس سی کے موضوع پر پوچھا کہ اس مرحلہ پر طالب علم کی صحیح رہنمائی اور کیرئیر پلاننگ اہم ہوتی ہے ۔ سینٹ جوزف کالج کی ماس کمیونیکیشن کے طالبات یس رشمی ، مناسا اور پریتیما نے بھی اسٹوڈیو میں اپنے سوالات کئے اور کیرئیر کے لیے مفید مشورے حاصل کئے ۔ سوال کنندگان میں اکثریت ایس ایس سی میں میاتھس میں ناکام طلبہ کی تھی جو اپنی ناکامی پر فکر مند تھے ۔ ان کو تشفی بخش جواب دیا گیا کہ وہ انسٹنٹ امتحان ( اڈوانسڈ سپلیمنٹری ) میں شریک ہو کر کامیابی حاصل کرتے ہوئے اپنے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچائیں ۔ پروگرام کے انعقاد میں فہیم انصاری ، محمد منیر ، صنعا ، صفوریہ صدیقہ نے معاونت کی ۔ آخر میں ایم اے حمید نے طریقہ کار پر تفصیل پیش کی اور زاہد فاروقی نے شکریہ ادا کیا ۔۔