ایسکیس میں مسلمان طالبہ کا قتل ، پولیس کی تحقیقات جاری

لندن ۔ 21 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) پولیس ایسکیس میں پی ایچ ڈی کی مسلمان طالبہ کے قتل کے واقعے کے بعد جوابی حملوں کی دھمکیاں دینے والوں کو تلاش کررہی ہے ۔ منگل کو 31 سالہ سعودی طالبہ ناہید المانے، کولچیسٹر میں ایون وے کی فٹ پاتھ پر مردہ پائی گئی تھی۔ المانے تقریباً 3 سال سے یونیورسٹی آف ایسکیس میں تعلیم حاصل کررہی تھی ایسکیس پولیس تفتیش کررہی ہے کہ کیا طالبہ کو اس کے مذہب کی بنا پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ المانے کے قتل کے شبہ میں گرفتار کیا جانے والا 52 سالہ شخص اب تفتیش کے دائرے سے نکال دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی ذرائع کے مطابق المانے ایک ذہین طالبہ تھی۔ قتل کے وقت وہ عبایا اور رنگ برنگ حجاب پہنے ہوئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ طالبہ کے قتل کے مذہب کے علاوہ دوسرے محرکات بھی ہوسکتے ہیں۔ پولیس سوشل میڈیا پر انتقامی کارروائی کی دھمکیوں سے واقف ہے اور اس حوالے سے تفتیش کررہی ہے۔ ایسکیس پولیس کے کرائم کمشنر نک ایلسٹن نے کہا ہے کہ المانے کے قتل کو مذہب سے جوڑا گیا تو اس سے تنائو بڑھے گا اور یہ غیر ذمہ دارانہ حرکت ہوگی انہوں نے کہا کہ المانے ہمارے ملک میں مہمان تھیں۔ بیرون ملک کسی فیملی ممبر کے قتل سے زیادہ افسوسناک بات ہو نہیں سکتی۔ حکام کے مطابق المانے اپنے بھائی کے ساتھ رہتی تھی اور عام طور پر بھائی کے ساتھ پیدل یونیورسٹی آتی تھی۔ مگر اس دن وہ اکیلی آئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ المانے کا قتل جیمز ایٹ فیلڈ کے قتل کی واردات سے ملتا جلتا ہے۔ سو افراد کا قاتل جیمز مارچ میں کولچیسٹر کے ایک پارک میں مارا گیا تھا۔ مس المانے کے آخری لمحات کی سی سی ٹی وی فوٹیج ریلیز کردی گئی ہے۔