واشنگٹن 15 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ نے ایران کے ساتھ نیو کلیئر معاہدہ ہونے پر دیگر ممالک کی سکیوریٹی کو لاحق خطرہ کی شکایت کو یکسر مسترد کردیا اور کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ نیو کلیئر معاہدہ سے اس خطہ میں اسلحہ کی دوڑ کا کوئی خدشہ نہیں ۔ گلف کوآپریشن کونسل (جی سی سی ) کے اجلاس کے موقع پر ڈپٹی قومی سلامتی مشیر بین روہڈس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ نیو کلیئر معاہدہ اسلحہ کی دوڑ کی وجہ نہیں بنے گا ۔ اگر کسی کو یہ شکایت ہے تو وہ بیجا ہے ۔ ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والا معاہدہ محض ایک دستاویز ہے ۔ ایران اگر نیو کلیئر طاقت کا حامل ملک بننا چاہتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن وہ پرامن مقاصد کیلئے ہوناچاہئے اور یہی ہم چاہتے ہیں کہ اس معاملہ کی سفارتی اساس پر یکسوئی ہوجائے اور امریکہ کو ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدہ کیلئے عالمی سطح پر تائید حاصل ہے ۔ روہڈس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم دنیا سے یہی کہیں گے کہ نیو کلیئر پروگرام کیلئے دنیا کا کوئی بھی ملک ایران کو اپنا رول ماڈل نہ بنائے ۔ دوسری طرف صدر امریکہ بارک اوباما بھی خلیجی ممالک کے سربراہان کو یہ باور کرانے میں لگے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونے والا نیو کلیئر معاہدہ اُن (جی سی سی ممالک )کیلئے باعث تشویش نہیں ہے ۔
ایک ر روزہ اجلاس کے اختتام کے موقع پر انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اپنے جی سی سی دوست ممالک کو یہ تیقن دینا چاہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ ہونیو الا نیو کلئیر معاہدہ پرامن ہوگا اور اس سے دیگر ممالک کو بھی تحریک حاصل ہوگی کہ امریکہ کی نیت میں کوئی فتور نہیں ہے ۔ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ وہ جی سی سی ممالک کے ساتھ مشترکہ طور پر کسی بھی شعبہ ہی کام کرنے کو تیار ہیں اور کسی بھی موقع پر کسی بھی و قت امریکہ جی سی سی ممالک کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ان کے شک و شبہات کو وقتاً فوقتاً دور کرتا رہے گا ۔ یاد رہے کہ ایک زمانہ وہ تھا جب ایران نے تقریبا نیو کلئیر توانائی کے حامل ملک ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا تھا لیکن مغربی ممالک نے کبھی بھی ایران کی نیت پر یقین نہیں کیا اور ایران اُن کی نظروں میں کھٹکتا رہا ۔ اس طرح ایران کو نیو کلئیر‘ توانائی کا حامل ملک بنانے کی راہوں میں رکاوٹیں پیدا کی جاتی رہیں ۔ حالانکہ ایران مغرب کو یہ باور کرواتے کرواتے تھک گیا کہ وہ صرف پُرامن مقاصد کیلئے ہی نیو کلیئر توانائی کا حامل ملک بننا چاہتا ہے ۔ بہر حال جی سی سی کے اجلاس کے بعد ایران کے تئیں دیگر ممالک کی سوچ میں تبدیلی آنا ضروری ہے ورنہ جی سی سی کے اجلاس کو ناکام ہی تصور کیا جائے گا کیونکہ اگر اعتماد سازی نہ ہو پائے تو ایسے اجلاس کا انعقاد تضیع اوقات ہوگا ۔