تہران 10 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) تہران میں ایک مقامی طور پر تیار کردہ مسافر بردار ایرانی طیارہ پرواز کے فوری بعد حادثہ کا شکار ہوگیا جس کے نتیجہ میں 39 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ یہ طیارہ ایک قدیم یوکرینی ڈیزائین کا تھا اور اس طرح کے طیارے پہلے بھی حادثات کا شکار ہوچکے ہیں۔ سیپاہان ائر ریجنل ائر لائینر طیارہ تہران کے مہرآباد ائرپورٹ سے مشرقی شہر طبس کو جا رہا تھا اور صبح 9.20 منٹ پر پرواز کے فوری بعد ایک رہائشی علاقہ میں گرکر تباہ ہوگیا ۔ صدر ایران حسن روحانی نے اس حادثہ پر افسوس کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے افراد خاندان اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ہے ۔
انہوں نے اس حادثہ کی تحقیقات کا حکم دیدیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ایرانی ہوابازی کمپنیوں کے اس طرح کے طیاروں کو تحقیقات کی تکمیل تک پرواز سے روک دیا جائیگا ۔ سرکاری ٹی وی پر کہا گیا ہے کہ طیارہ کا پچھلا حصہ ایک برقی ٹاور کے کیبلس میں پھنس گیا تھا جس کے بعد وہ زمین پر آگرا اور شعلہ پوش ہوگیا ۔ سرکاری خبر رساں ادارہ ارنا نے کہا کہ طیارہ کے انجن ناکام ہوگئے تھے ۔ تاہم کہا گیا ہے کہ حادثہ کی وجہ چاہے کچھ بھی ہو تاہم پائلٹ کی جانب سے فوری حرکت میں آکر حاضر دماغی کے مظاہرہ سے کچھ جانوں کو تلف ہونے سے بچایا جاسکا ہے ۔ تہران محکمہ فائر کے ترجمان جلال مالکی نے کہا کہ ہمیں خدا کا شکر کرنا چاہئے کہ پائلٹ نے طیارہ کو رہائشی عمارتوں سے دور رکھنے جو کچھ کرنا تھا کیا ہے اور طیارہ ان عمارتوں پر نہیں گرا ہے بصورت دیگر مزید نقصانات ہوسکتے تھے ۔ایران میں ماضی میں بھی طیاروں کے حادثات ہوئے ہیں۔