ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے طویل مدتی حل کیلئے یہ مذاکرات اہم رہے، یوروپی یونین
اقوام متحدہ ۔ 8 مئی (سیاست ڈاٹ کام) یوروپی یونین کے مطابق ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے مابین مذاکرات کا تازہ دور کارآمد رہا۔ ایران کے متنازعہ ایٹمی پروگرام کے طویل المدتی حل کیلئے مذاکرات کا یہ دور 6 اور 7 مئی کو نیویارک میں منعقد ہوا۔ یوروپی یونین کے ایک ترجمان نے بتایا کہ نیویارک میں ہونے والی بات چیت کے دوران مذاکراتی عمل کے تنازعات کو بہتر انداز میں سمجھنے اور مذاکرات کے اگلے، اعلیٰ سطحی دور کی تیاریوں پر توجہ مرکوز رہی۔ مذاکرات کا اگلا باقاعدہ دور 13 مئی سے یوروپی ریاست آسٹریلیا کے دارالحکومت ویانا میں شروع ہوگا۔ ایک مغربی سفارتکار نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارہ کو بتایا کہ بات چیت کے دوران ایران کے اراک ری ایکٹر سے متعلق تنازعہ کے حل کے حوالے سے کچھ پیشرفت ہوئی ہے۔
واضح رہیکہ امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو شبہ ہیکہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی آڑ میں جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش میں ہے جبکہ تہران انتظامیہ اس الزام کو رد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہیکہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے۔ ایران اور 6 عالمی طاقتوں کے مابین گذشتہ برس نومبر میں 6 ماہ دورانیے کی ایک عارضی ڈیل طئے پائی تھی جس کے تحت تہران کو چند متنازعہ جوہری سرگرمیوں کو ترک کرنے کے بدلے میں کچھ مالی پابندیوں میں چھوٹ دی گئی۔ اس ڈیل کی مدت 20 جولائی کو ختم ہورہی ہے۔ فریقین اس عرصے میں ایک جامع اور طویل المدتی ڈیل کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں ہیں تاکہ ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کئی سال سے چلے آرہے فاصلے مٹ سکیں۔ 6 عالمی کے پی فائیو پلس ون کہلانے والے گروپ میں امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس، چین اور روس شامل ہیں اور مذاکرات میں ان کی نمائندگی یوروپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ کیتھرین ایشٹن کررہی ہیں۔