نئی دہلی 13 مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) ملک میں ایجادات مالی امداد کی قلت کی وجہ سے ’’پسماندہ ‘‘ ہیں۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے یہ کہتے ہوئے بینکوں کو مشورہ دیا کہ وہ ہندوستان گیر سطح پر مخلص افراد کی مدد کریں۔ انہوں نے کہا کہ ایجادات مختلف شعبوں ‘ مختلف سطحوں اور مختلف طبقات میں ہونی چاہئیں اس سے اس کارروائی کی مدد ہوگی اور یہ کوئی معمولی اقدام نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بینکنگ نظام اعلی ترین اہمیت رکھتا ہے۔ پورے ایجادات کے سلسلہ میں مالیہ کی فراہمی اہمیت رکھتی ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بینک ہمارے ذہین نوجوانوں کی دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں مالی مدد کریں تا کہ وہ نئی ایجادات کرسکیں ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان میں ’’بدقسمتی‘‘ سے ایسی کئی مثالیں ہیں کہ مالی امداد کی قلت کی وجہ سے ایجادات پیچھے رہ گئی ہیں۔ این ایس ایس او کے سروے کے بموجب تقریباً 5 کروڑ 70 لاکھ چھوٹے صنعتکار 12 کروڑ افراد ملازم رکھتے ہیں۔ اس شعبہ میں مالیہ موجود ہے جس کی مقدار صرف 11 لاکھ کروڑ روپئے ہے لیکن ادارہ جاتی قائدین سے چھوٹا سا حصہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مکرجی نے کہا کہ بینکنگ نظام قومی ایجادات فاونڈیشن کے ساتھ تعاون کر کے موجدوں کی کثیر تعداد تیار کرسکتا ہے تا کہ وہ عوام کی ضروریات پوری کرسکے لیکن اس کیلئے موجدوں کی مالی ضروریات کی تکمیل ہونی چاہئے ۔