اگر چائے والا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو میں وزیر اعلی کیوں نہیں بن سکتا ؟ ادھو

ممبئی ۔ 15 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے اب ذہنی طور پر خود کو مہاراشٹرا کے اعلیٰ ترین یعنی وزیر اعلیٰ کے عہدہ پر فائز ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار کرچکے ہیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ جب ایک چائے فروخت کرنے والا ملک کا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو وہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بن سکتے ؟ پارٹی کے ترجمان اخبار سامنا میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل سچ ہے کہ ٹھاکرے خاندان نے کبھی بھی انتخابی سیاست نہیں کی اور نہ ہی کسی نے الیکشن لڑا اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم نے اپنی سیاسی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کیا ۔ اگر نریندر مودی کے جیسا ایک عام آدمی جو اپنے ابتدائی دور میں چائے فروخت کیا کرتے تھے ملک کے جلیل القدر عہدہ پر فائز ہوسکتے ہیں تو پھر ادھو وزیر اعلیٰ کیوں نہیں بن سکتا ؟

بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی وزراء جو فی الحال پارٹی کے لیے مہمات چلا رہے ہیں وہ مابعد انتخابات مہاراشٹرا کو بھول جائیں گے ۔ مرکزی وزراء کی ایک کھیپ مہاراشٹرا لائی گئی ہے تاکہ وہ یہاں انتخابی مہمات چلاسکیں ۔ انتخابات کے بعد یہ وزراء واپس نہیں آئیں گے جب کہ شیوسینا یہیں رہے گی اور عوام کے مسائل کی یکسوئی کا سلسلہ جاری رکھے گی ۔ بی جے پی کو اقتدار کی بھوکی پارٹی قرار دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے نے کہا کہ پارٹی ریاست مہاراشٹرا کی تقسیم کا ناپاک ارادہ رکھتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریاست مہاراشٹرا میں بھی اسی طرح برسر اقتدار رہنا چاہتی تھی جیسا کہ وہ مرکز میں ہے ۔۔