اپوگوڑہ کی یکخانہ مسجد کو آباد کرنے کا سنہری موقع

فلائی اوور برج کے باعث غیر آباد مسجد لب سڑک آگئی ، چار سو سالہ قدیم مسجد وقف بورڈ اور مسلمانوں کی منتظر
حیدرآباد ۔ 13 ۔ نومبر : ( نمائندہ خصوصی ) : مساجد کو اللہ کا گھر کہا جاتا ہے لیکن ان گھروں کی عملی حفاظت و صیانت کی تمام ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کی گئی ہے ۔ اگر کسی مسجد کی حرمت و تقدس پامال ہوتی ہے تو وقت کے مسلمانوں کو اپنے پروردگار کے روبرو جوابدہ ہونا پڑے گا ۔ شہر حیدرآباد جو کبھی اسلام اور مسلمانوں کی آماجگاہ بنا رہا ۔ آج مسلمانوں کی بے اعتنائی اور لاپرواہی سے غیروں کے حوصلے بلند ہوتے چلے گئے ۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے چند دہوں کے اندر بے شمار مساجد ویران ہو کر غیروں کے ناجائز قبضے میں چلے گئے ۔ ایسی ہی مسجدوں میں سے ایک اپوگوڑہ میں ’’ ایک خانہ مسجد ‘‘ واقع ہے جو قطب شاہی دور سے تعلق رکھتی ہے اور یہ 400 سالہ قدیم ہے ۔ مگر اللہ کا یہ مقدس گھر 1990 سے بند ہے ۔ فن تعمیر کی شاہکار اس خوبصورت مسجد میں پچھلے 24 سال سے نماز نہ ہونے کی وجہ سے ویران اور کھنڈر نما ہوچکی ہے ۔ تقریبا دو سال پہلے شہر کے حالات کشیدہ ہوجانے کے دوران شرپسندوں نے اس مسجد کو نقصان پہنچایا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سلسلے میں مقدمات بھی درج کئے گئے تھے مگر اس کے باوجود کسی ایک شرپسند کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ مزید ستم ظریفی یہ ہے کہ شرپسندوں کی جانب سے اس مسجد کو نقصان پہنچانے کے بعد اس مسجد کو اسی حالت میں چھوڑ دیا گیا اور آج تک اسی حالت میں ہے اس کی آج تک مرمت نہیں کی گئی ۔ تاہم اب جب کہ اس علاقے میں ماسٹر پلان جاری ہے چونکہ اپوگوڑہ فلائی اوور برج زیر تعمیر ہے اور اس کے لیے اپوگوڑہ سے شاہ علی بنڈہ تک ماسٹر پلان کیا جارہا ہے اس ماسٹر پلان کی وجہ سے اب یہ مسجد مین سڑک کے روبرو آگئی ہے جس کی وجہ سے یہاں سے گذرنے والے ہر شخص کی نظر اسی مسجد پر پڑ سکتی ہے ۔ وقف بورڈ میں موجود ریکارڈ میں اس مسجد کی اراضی 240مربع گز ہے ۔ اس معاملے میں وقف بورڈ لاپرواہی اور غلطی واضح نظر آتی ہے ۔ وقف بورڈ کی اگر استقلال کے ساتھ اس مسجد پر توجہ مرکوز کرے تو یہ مسجد پھر سے آباد ہوسکتی ہے ۔ اسی مسجد سے متصل مسلمانوں کی کثیر آبادی والا علاقہ موجود ہے جیسے اپوگوڑہ ، کندیکل گیٹ ، غلام مرتضی چھاونی ، پھول باغ وغیرہ مگر افسوس کی بات ہے کہ آج تک اس مسجد کی داغ دوزی یا اس ویران مسجد کو آباد کرنے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے یہ 400 سالہ قدیم مسجد پچھلے 24 سال سے غیر آباد اور ویران ہے ۔ اور اپنے رکوع و سجود سے آباد کرنے والے فرزندان توحید کا انتظار کررہی ہے ۔ اس مسجد کا وقف گزٹ میں ریکارڈ اس طرح ہے ۔۔
Hyd/1732, Ek Khana Masjid Uppu guda, 18-3-11 (S) (25), Area 240 sqyr Gaz-22-A, S1 No.1002, Gaz date 7-6-1984, Page No.5