آٹو فینانسر کی ہراسانی سے شوہر کی موت پر بیوہ کی بھوک ہڑتال

فینانسرس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ ، محمد امان اللہ و دیگر کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 3 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ آٹو ڈرائیورس جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور آٹو اونرس ویلفیر اسوسی ایشن نے شہر حیدرآباد کے ایک آٹو فینانسر کی مبینہ ہراسانی سے دل برداشتہ ایک آٹو ڈرائیور کے والد کی موت کے ذمہ دار فینانسر اور بے گناہ آٹو ڈرائیور کو سرقہ کے الزام میں گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں دئیے جانے کے خلاف بے قصور متوفی کی بیوہ کی جانب سے اندرا پارک پر غیر معینہ مدت کے لیے بھوک ہڑتال کے آغاز کے علاوہ بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کئے جانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس بات کا اعلان آج یہاں کنوینر تلنگانہ آٹو ڈرائیورس جوائنٹ ایکشن کمیٹی مسٹر محمد امان اللہ خاں اور صدر گریٹر آٹو اونرس ویلفیر اسوسی ایشن مسٹر مرزا رفعت بیگ نے ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ شیخ فیاض نامی آٹو ڈرائیور نے مالاکنٹہ میں واقع سوسینا فینانس اینڈ کریڈٹ کارپوریشن سے 6 آٹوز خریدا تھا اور وہ ہر ماہ 36 ہزار روپئے قسط کے حساب سے اقساط ادا کررہا تھا لیکن وہ چند عرصہ سے بعض ناگزیر جوہات کی بناء پر اقساط کی ادائیگی کرنے سے قاصر رہا چنانچہ 7 اگست 2014 کو فینانسر نے اپنے ماتحتین کے ذریعہ آٹو جس کا نمبر AP135321 تھا جس کو شیخ فیاض چلا رہا تھا ۔ مہدی پٹنم کے علاقہ میں زبردستی پکڑ کر خیرت آباد میں واقع شمس آٹو گیاریج منتقل کیا لیکن فیاض نے گیاریج میں آٹو رکھنے سے انکار کرتے ہوئے فینانسر سے بات کرنا ہے کہتے ہوئے آٹو چالو کر کے وہاں سے چلا گیا جس پر آٹو فینانسر نے آٹو گیاریج کے واچ مین وینکٹ سوامی کے ذریعہ فیاض پر گیاریج سے آٹو سرقہ کرنے سے متعلق سیف آباد پولیس اسٹیشن میں جھوٹی شکایت درج کروایا جس پر پولیس نے آٹو ڈرائیور فیاض اور اس کے ساتھی آٹو ڈرائیور حبیب کو طلب کیا ۔ اس واقعہ کی اطلاع جب شیخ فیاض کے والد شیخ طاہر کو ملی تو وہ دل برداشتہ ہوگئے اور آخر کار شیخ طاہر 8 اگست کو دل پر دورہ پڑنے کے نتیجہ میں فوت ہوگئے اور شیخ طاہر کے انتقال کے چند دن تک فینانسر اور پولیس خاموش رہی اور یکم نومبر کو آٹو دلانے کا جھانسہ دیتے ہوئے پولیس اسٹیشن طلب کرتے ہوئے آٹو ڈرائیور فیاض اور اس کے ساتھی ڈرائیور حبیب کو پولیس نے گرفتار کر کے عدالتی تحویل میں دیدیا ۔ اس طرح مذکورہ پیش آئے واقعہ پر اپنے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان قائدین نے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ شیخ طاہر کی موت کے ذمہ دار فینانسر کے خلاف قتل کیس درج کرتے ہوئے فینانسر کو کیفرکردار تک پہنچانے کے علاوہ شیخ فیاض اور حبیب کے خلاف دائر کردہ سرقہ کے جھوٹے مقدمات سے دستبرداری کے لیے ضروری اقدامات کرے اور ساتھ ہی ساتھ ریاست تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں موجود غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے فینانس کمپنیوں کے خلاف سخت قانونی چارہ جوئی کی جائے تاکہ غریب اور معصوم عوام کو فینانسروں کی جانب سے کی جانے والی ہراسانی اور ظلم و ستم سے ہونے والی اموات پر قابو پایا جاسکے ۔ اس طرح سے انہوں نے محکمہ آر ٹی اے سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ شہر کے فینانسروں کے لیے گاڑیوں کی خرید و فروخت سے متعلق ضروری قانون مدون کرے ۔ اس موقع پر جوائنٹ کنوینر تلنگانہ آٹو ڈرائیورس جوائنٹ ایکشن کمیٹی مسٹر جے رویندر اور مسٹر سید غوث عرف لکی بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر اسوسی ایشن قائدین نے آٹو فینانسرس کا ظلم بند کرو تحریر کردہ پوسٹرس کی رسم اجرائی بھی انجام دیا ۔۔