آندھرا پردیش کیلئے 56 ہزار کروڑ کی مالی اعانت !ت

مرکزکی نریندر مودی حکومت کیلئے مصیبت کھڑی کرسکتی ہے

حیدرآباد 12 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) متحدہ آندھرا پردیش کی تقسیم اور تلنگانہ کی تشکیل سے تلگودیشم کا یہ فائدہ ہوا کہ اسے کافی عرصہ بعد اقتدار حاصل ہوا اور اب پارٹی سربراہ آندھرا کے چیف منسٹر ہیں۔ ماقبل انتخابات نائیڈو نے انتخابی حکمت عملی کے تحت آندھرا اور تلنگانہ میں بی جے پی سے اتحاد کیا اور اس اتحاد میں نریندر مودی کا اہم رول رہا ۔ آندھرا میں وہی ہوا جیسا بی جے پی قیادت نے اندازے لگائے پر تلنگانہ میں اس اتحاد کو زیادہ کامیابی نہیں ملی ۔ تاہم چندرا بابو نائیڈو کو یقین ہیکہ مرکزی حکومت ان کی ہر معاملہ میں مدد کرے گی اس وجہ سے انہوں نے آندھرا کیلئے 56000 کروڑ روپئے کی امداد مانگی ہے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ اگر 56000کروڑ کی خطیر رقم تعلقات کی بنیاد پر جاری کی جاتی ہے تو پھر مودی حکومت کیلئے کئی مصیبتیں کھڑی ہوسکتی ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہیکہ ملک کی معاشی حالت اس قدر مستحکم نہیں کہ حکومت مرضی سے ریاستوں کو رقومات جاری کرے ۔حکومت معاشی محاذ پر پریشان ہے فبرویر میں یو پی اے حکومت نے عبوری بجٹ 2014 پیش کیاتھا اس میں جاریہ سال کا مالی خسارہ 5,28,631 کروڑ روپئے یعنی قومی مجموعی پیداوار کا 4.1 فیصد بتایا گیا تھا اگر مختلف کٹوتیوں کے ذریعہ اس خسارہ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تو اس پر 100000 کروڑ روپئے کا فرق پڑ سکتا ہے ۔ ان حالات میں مرکزی حکومت آندھرا حکومت کو 54000 کروڑ روپئے جاری کرتی ہے تو اس سے پہلے ہی سے موجود مالی خسارہ میں بے تحاشہ اضافہ ہوگا جسکے نتیجہ میں حکومت کی معاشی پالیسی قطعیت پانے یا اس کے ثمرات حاصل ہونے سے قبل ہی لڑکھڑا جائے گی۔ واضخ رہے کہ چندرا بابو نائیڈو مرکز سے جو مالی اعانت مانگ رہے ہیں اتنی رقم تو متحدہ آندھرا نے گذشتہ دس برسوں میں حاصل کی ہے ۔ 2004 سے 2014 تک متحدہ آندھرا نے جو اعانت حاصل کی ہے وہ 54613.4 کروڑ روپئے ہے ۔ اگر نائیڈو کو خوش کرنے مالی اعانت کی جاتی ہے تو مودی نے جو انتخابی وعدے کئے تھے ان پر اثر پڑسکتا ہے دوسری طرف اوڈیشہ ،ٹاملناڈو بھی اسی طرح کے مالی پیاکیج کی مانگ کرسکتے ہیں جسکے نتیجہ میں حکومت عدم استحکام کی طرف رواں دواں ہوجائے گی۔