آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں کی عبوری تقسیم پر کئی عہدیدار بے چینی کا شکار

مرکز پر رازدارانہ ترجیحات کو افشاں کرنے کا الزام، الاٹمنٹ کیخلاف مرکز سے نمائندگی اور عدالت سے رجوع ہونے کا اعلان
حیدرآباد۔/24اگسٹ، ( سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے آل انڈیا سرویسس کے عہدیداروں کی عبوری تقسیم کے بعد عہدیداروں میں بے چینی پائی جاتی ہے اور کئی عہدیداروں نے الاٹمنٹ کے خلاف مرکز سے نمائندگی اور عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکز نے پرتیوش سنہا کمیٹی کی سفارشات کے مطابق آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس عہدیداروں کو تلنگانہ اور آندھرا پردیش ریاستوں میں الاٹ کیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ آل انڈیا سرویسس آفیسرس کی اسوسی ایشن نے عہدیداروں کے قطعی الاٹمنٹ سے قبل اپنے اعتراضات درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ عہدیداروں کو 30اگسٹ تک اعتراضات درج کرانے کی مہلت دی گئی اور 2ستمبر کو عہدیداروں کا قطعی الاٹمنٹ ہوجائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی نے عہدیداروں سے دونوں ریاستوں میں ترجیح کے بارے میں پوچھا تھا اور عہدیداروں نے سربہ مہر لفافہ میں اپنی ترجیحی ریاست سے واقف کرایا۔ لیکن کئی عہدیداروں کو ان کی ترجیح کے برخلاف دوسری ریاست کو الاٹ کیا گیا۔ عہدیداروں کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ کمیٹی نے ان کی خفیہ طور پر دی گئی ترجیح کو ویب سائٹ پر برسر عام کردیا جس سے دوسری ریاست میں ان کیلئے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ اسوسی ایشن کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ عہدیداروں کے الاٹمنٹ کا آندھرا پردیش سے کیا گیا جبکہ اسے تلنگانہ سے شروع کیا جانا چاہیئے تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اسوسی ایشن اس سلسلہ میں مرکزی حکومت کو اپنے اعتراضات سے واقف کرائے گی۔ اس کے علاوہ الاٹمنٹ سے ناخوش عہدیدار بھی شخصی طور پر اپنے اعتراضات سے حکومت کو واقف کرائیں گے۔ سینئر آئی پی ایس عہدیدار کے درگا پرساد جنہوں نے آندھرا پردیش اپنی ترجیح بتائی تھی انہیں تلنگانہ کو الاٹ کیا گیا۔ اسی طرح آندھرا پردیش کے انٹلیجنس آئی جی اے آر انورادھا کو تلنگانہ کیلئے الاٹ کیا گیا جبکہ ان کے شوہر این وی سریندر بابو ( آئی پی ایس ) کو تلنگانہ ترجیح کے باوجود آندھرا پردیش الاٹ کیا گیا۔ سینئر آئی اے ایس عہدیدار و ایکزیکیٹو آفیسر تروملا تروپتی دیواستھانم ایم جی گوپال نے آندھرا پردیش اپنی ترجیح پیش کی تھی لیکن انہیں تلنگانہ الاٹ کیا گیا۔ کمشنر گریٹرحیدرآباد میونسپل کارپوریشن سومیش کمار نے تلنگانہ کو ترجیح دی تھی لیکن انہیں آندھرا پردیش الاٹ کیا گیا۔ آئی پی ایس عہدیداروں میں ایم ایم بھاگوت، وجئے کمار، راجیش کمار اور آر جے لکشمی نے تلنگانہ کو ترجیح دی لیکن انہیں آندھرا پردیش الاٹ کیا گیا۔ اوبلا پورم مائننگ مقدمہ میں سی بی آئی مقدمہ کا سامنا کرنے والی آئی اے ایس عہدیدار وائی سری لکشمی نے آندھرا پردیش اپنی ترجیح تحریر کی تھی لیکن انہیں تلنگانہ الاٹ کیا گیا۔ اس طرح الاٹمنٹ کے طریقہ کار پر عہدیداروں میں بے چینی دیکھی جارہی ہے۔