آرٹی سی بسوں میں مخصوص مذہب کی تصاویر سے عوام کے جذبات مجروح

شہر میں کئی مذاہب کے لوگوں کا آرٹی سی میں سفر، مخصوص مذہبی تصاویر کو نکالنے محکمہ سے مسافرین کی اپیل
حیدرآباد ۔9 مئی(سیاست نیوز )۔ شہر میں ہزاروں کی تعداد میں APSRTC کی سٹی اور سب اربن بسیں چلائی جاتی ہیں۔شہر کے اکثیریتی ، اقلیتی اور دیگر علاقوں میں یہ بسیں مسافرین کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتی ہیں۔حیدرآباد میں بڑھتی ہوئی ٹرافک اور سڑک حادثات نے عوام کو اے پی ایس آر ٹی سی کی جانب سے چلائی جانے والی بسیں استعمال کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ ا س لئے شہری افراد سٹی اورسب اربن بسوں میں سفر کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔لیکن کچھ بسوں میں صرف ایک ہی مذہب کے متعلق تصویر لگائی جارہی ہے، جس کی وجہ سے مسافرین میں تشویش پائی جارہی ہے۔ایک مسافر نے کہا ہے کہ آرٹی سی عام ٹرانسپورٹ کا ذریعہ ہے اس لئے یا تو اس میں سبھی مذاہب کے متعلق کی تصویر ہونی چاہیئے یا پھر کسی کی بھی نہیں ہونی چاہیئے ۔ قابل غور ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی اس طرح کی شکایات محکمہ آرٹی سی کو وصول ہوئی تھی اور اس پر عمل کرتے ہوئے محکمہ نے تمام بسوں سے مذہبی تصویروں کونکال دیا تھا۔دانشوروں کا ماننا ہے کہ Public Transport System میں اس طرح کے عمل نہیں ہونے چاہیئے ۔ ان تصویروں کی وجہ سے لوگوں میں فرقہ وارانہ خیالات جنم لیتے ہیں۔جو ملک ، ریاست اور شہر کی پرامن فضاء کو خراب کرسکتے ہیں۔ عوام کے لئے محکمہ آر ٹی سی نے ایک مفت کال کرنے کی سہولت فراہم کی ہے ، اس کے ذریعہ لوگ اپنے خیالات محکمہ تک پہنچاسکتے ہیں۔اس ضمن میں اگرمسافروں کو کوئی شکایت کرنی ہو تو مفت کال کرنے کے لئے اس فون نمبر 18002004599 سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ شہرکی عوام نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ محکمہ اور مسافرین کے فائدے کے لئے بسوں میں لگائے گئے مذہبی تصاویر کو جلد از جلد ہٹانے کے احکامات جاری کریں ۔