واشنگٹن 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے ایک تحقیقاتی صحافی نے ایک ایساانکشاف کیا ہے جو یقیناً چونکا دینے والا ہے ۔ اُس کا ادعا ہے کہ اُسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے کے بعد سمندر برد نہیں کیاگیاتھا جیساکہ امریکہ یہ د عوی کرتا آرہا ہے۔ اسامہ کے جسم کو گولیاں مار مار کر چھلنی کردیاگیا تھا اور یہاں تک کہ اس کے جسم کے ٹکڑوں کو کوہ ہند وکش پر اچھال کر ضائع کردیا گیا تھا ۔ جس صحافی نے یہ انکشاف کیاہے کہ وہ کوئی معمولی صحافی نہیں بلکہ پیولٹزر انعام حاصل کرنے و الے اس صحافی کا نام سیمو رنرش کا دعوی ہے کہ امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ اسامہ کی اسلامی طرز پر آخری رسومات انجام دی گئی ہیں‘ سوائے جھوٹ اور کچھ نہیں ۔ لندن ریویو آف ہکس میں ایسے ایک مضمون میں سیموزے تحریر کیا ہے کہ اخباری رپورٹرس کو غلط اطلاع دی گئی کیونکہ انہوں نے اسامہ کی ہلاک کے بعد اس کی نعش پیش کرنے کا مطالبہ کیاتھا جس پر رپورٹرس کو بتایا گیا کہ نعش کو جلال آباد میں واقع ایک امریکی فوجی ایر فیلڈ لیجاگیا ہے جہاں سے اُے یو ایس ایس کارل فونسن نامی جہاز پر لیجاگیا اور وہاں سے سمندر برد کردیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کارل ونسن بحری جہاز سے سمندر برد کیا ہی نہیں گیا ۔ بہر حال امریکہ نے صحافی کے ان دعودوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔