اُری سیکٹر میں حملہ کے پس پردہ لشکر طیبہ اور پاکستانی ہاتھ ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود: فوج

سری نگر۔ 7؍دسمبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ فوج نے آج کہا کہ اس کے پاس اس بات کا ٹھوس ثبوت موجود ہے کہ 6 دہشت گردوں نے جنھوں نے اُری میں فوجی کیمپ پر حملہ کیا تھا، لشکر طیبہ سے تعلق رکھتے تھے اور انھیں پاکستانی انتظامیہ کی تائید حاصل تھی۔ وہ خصوصی کارروائیوں کے لئے انتہائی تربیت یافتہ تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مہلوک عسکریت پسند ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شہریوں کو نشانہ بنانے کی تلاش میں تھے تاکہ جموں و کشمیر میں منگل کو تیسرے مرحلہ کی رائے دہی کو متاثر کرسکیں۔ فوج کی 15 کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ جنرل سبرتا سہا نے کہا کہ جی پی ایس مہلوک عسکریت پسندوں کے پاس سے دستیاب ہوئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خط قبضہ کی دوسری سمت سے دریائے جہلم کے شمالی علاقہ سے ہندوستان میں دراندازی کے ذریعہ داخل ہوئے تھے۔ ایک درانداز ٹوٹماری گلی (نوگام) اور ایک اُری سیکٹر میں داخل ہوا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ چند وجوہات کی بناء پر درست مقام کی نشاندہی نہیں کررہے ہیں۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ نوگام سیکٹر میں جو واقعات پیش آئیں، جن میں 6 عسکریت پسند اور ایک جے سی او ہلاک ہوئے اور اُری سیکٹر میں جمعہ کے دن جو واقعہ پیش آیا، وہ معمول کی دراندازی کی کوششیں نہیں تھیں۔