اویسی برادران ذرائع آمدنی کی وضاحت کریں

15 برسوں میں اثاثہ جات میں مسلسل اضافہ، کانگریس کے اقلیتی قائدین کا بیان
حیدرآباد۔ 21 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ کانگریس کمیٹی کے اقلیتی قائدین نے اویسی برادران سے مطالبہ کیا کہ وہ گزشتہ 15 برسوں میں اثاثہ جات میں اضافے کے سلسلہ میں ذرائع آمدنی کی وضاحت کریں۔ میڈیا سے گاندھی بھون میں بات چیت کرتے ہوئے پردیش کانگریس کے ترجمان سید نظام الدین اور حیدرآباد سٹی کانگریس میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر ولی اللہ سمیر نے کہا کہ اویسی برادرس نے الیکشن کمیشن کو داخل کردہ حلف نامہ میں جو تفصیلات داخل کی ہیں، وہ ان کی بظاہر آمدنی سے میل نہیں کھاتیں۔ گزشتہ 15 برسوں میں اور خاص طور پر 5 برسوں میں بی جے پی دور حکومت میں آمدنی میں اضافہ ہوا ہے اور اویسی برادران سیاستداں سے زیادہ بزنس مین دکھائی دے رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کو داخل کردہ حلف نامے کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس قائدین نے کہا کہ اسد اویسی نے 2004ء میں صرف 39.02 لاکھ روپئے کے اثاثہ جات ظاہر کیئے تھے جو جاریہ سال بڑھ کر 13 کروڑ ہوگئے۔ اسی طرح رکن اسمبلی چندرائن گٹہ کے اثاثہ جات 2004ء میں 4 کروڑ تھے جو جاریہ سال بڑھ کر 24 کروڑ 53 لاکھ ہوچکے ہیں۔ قائدین نے کہا کہ دولت حاصل کرنا کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن جن ذرائع اور وسائل سے یہ اضافہ ہوئی ہے، اس بارے میں عوام کو جاننے کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر الیکشن میں مجلسی قائدین کے اثاثہ جات میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ حیدرآباد کے رائے دہندوں کی غربت برقرار ہے۔ 23 فیصد عوام غریب ہیں اور ان میں 13 فیصد سطح غربت سے نیچے زندگی گزاررہے ہیں۔ 16 فیصد بچے غربت کے سبب اسکول جانے کے موقف میں نہیں۔ پرانے شہر کے زیادہ تر افراد فینانسرس کے چنگل میں پھنسے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں 84 فیصد مسلمان ایسے مکانات میں زندگی بسر کررہے ہیں جو 100 سے بھی کم اراضی پر محیط ہیں جبکہ قائدین کے مکانات محل نما اور کروڑہا روپئے مالیتی ہیں۔ انہوں نے پرانے شہر کے نوجوانوں کی ترقی کے لیے کم از کم ایک کروڑ روپئے جاری کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ کم از کم 100 نوجوان کاروبار سے وابستہ ہوکر اپنے خاندان کی پرورش کرسکیں۔