اقلیتی بہبود اور اقلیتی تعلیمی اور معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ، ڈپٹی چیف منسٹر الحاج محمد محمود علی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔17۔ڈسمبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے اعلان کیا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مسئلہ پر بہت جلد علماء مشائخ اور متولیوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا ۔ اقلیتی اداروں کے دورے کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ اقلیتی بہبود اور اقلیتوں کی تعلیمی اور معاشی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے وعدہ کے مطابق اقلیتی بہبود کیلئے 1030 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر مہینے میں وہ ایک دن حج ہاؤز میں گزاریں گے اور اقلیتی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ عوامی مسائل کی سماعت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی اداروں میں سدھار اسٹاف میں ڈسپلن اور ورک کلچر عام کرنا حکومت کی دلچسپی ہے تاکہ سرکاری اسکیمات پر شفافیت کے ساتھ عمل آوری ہو۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسکیمات میں کسی بھی بے قاعدگی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی اداروں کی عدم تقسیم کے باعث بعض مسائل پیدا ہوئے ہیں، لہذا اداروں کی تقسیم کے بعد اقلیتی اداروں پر بطور خاص توجہ دی جائے گی اور عوام کو اسکیمات کے فوائد پہنچانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ محمود علی نے تجویز پیش کی کہ جس طرح حکومت ضعیف افراد کو ماہانہ وظیفہ جاری کر رہی ہے اسی طرح اردو اکیڈیمی سے سینئر شعراء اور ادیبوں کو ماہانہ وظائف مقرر کئے جائیں۔ اس سلسلہ میں حکومت اردو اکیڈیمی کے بجٹ میں اضافہ کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم پر موثر عمل آوری کیلئے قواعد میں نرمی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکیم سے استفادہ کیلئے آدھار کارڈ ضروری نہیں۔ درخواست گزار رہائشی صداقت نامے کے طور پر ووٹر آئی ڈی ، راشن کارڈ یا ڈرائیونگ لائسنس کی نقل پیش کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم آر او سے مذہب اور آمدنی سے متعلق سرٹیفکٹ حاصل کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آمدنی کی حد دو لاکھ روپئے مقرر کی گئی ہے۔ جاریہ مالیاتی سال حکومت اس اسکیم کے تحت تقریباً 20,000 غریب خاندانوں کو مالی امداد فراہم کرنے کا نشانہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے شرائط کے بارے میں غیر ضروری طور پر غلط فہمیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس اسکیم کے لئے 600 سے زائد درخواستیں وصول ہوئی ہیں۔ جناب محمود علی نے بتایا کہ درخواست گزاروں کو آسان شرائط کے ساتھ درخواستیں قبول کرنے کیلئے ضلع کلکٹرس کو ہدایات جاری کی جائیں گی۔ اسکالرشپ اور فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیمات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں کانگریس حکومت نے متحدہ آندھراپردیش نے ان اسکیمات کیلئے 640 کروڑ روپئے مختص کئے تھے جبکہ ٹی آر ایس حکومت نے ایک سال میں 500 کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دو برسوں کے بقایہ جات کی ادائیگی کیلئے 100 کروڑ روپئے کی جلد اجرائی کا تیقن دیا ۔ محمود علی نے بتایا کہ حکومت ہر ضلع میں اقلیتی اداروں کیلئے عہدیداروں کے تقرر اور علحدہ دفاتر کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اضلاع میں موجود اوقافی یا سرکاری اراضی پر حکومت اپنے خرچ سے عمارت تعمیر کرے گی جس میں تمام اقلیتی اداروں کے دفاتر موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد اقلیتی بہبود اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا جائے گا جس میں وقف بورڈ کو پولیس عہدیداروں پر مشتمل پروٹیکشن ٹیم حوالے کرنے کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ کی بالائی منزلوں میں کافی گنجائش ہے لہذا اقلیتی طلبہ کیلئے وہاں مختلف کورسس میں ٹریننگ پروگرامس منعقد کئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے اس احساس کا اظہار کیا کہ اقلیتی اداروں میں مزید سدھار کی ضرورت ہے تاکہ ملازمین میں جوابدہی کا احساس پیدا کیا جاسکے۔