اوبیر کمپنی کے خلاف دھوکہ دہی کا مقدمہ

نئی دہلی 9 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دہلی پولیس نے جمعہ کی رات اوبیر ٹیکسی کمپنی کے ڈرائیور کی جانب سے ایک لڑکی کی عصمت ریزی کے معاملہ میں کمپنی کے خلاف بھی دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس ( نارتھ ) مدھر ورما نے بتایا کہ پولیس نے اوبیر کے خلاف دفعہ 420 کے تحت دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا ہے ۔ اب تک کی تحقیقات کے مطابق یہ واضح ہوگیا ہے کہ اب تک جانچ شدہ ڈرائیورس کے ذریعہ محفوظ سفر کی سہولت فراہم کرنے کا تیقن دیتے ہوئے صارفین کو دھوکہ دیا ہے ۔ اس وقاعہ پر کافی ہنگامہ کیا جارہا ہے اور پارلیمنٹ میں بھی اس مسئلہ کو موضوع بحث بنایا گیا ۔ قبل ازیں آج دن میں دہلی پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ کمپنی کے خلاف دفعہ 188 کے تحت مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے اور دیگر الزامات بھی عائد کئے جاسکتے ہیں کیونکہ کمپنی کے خلاف مجرمانہ تغافل اور جرم کی حوصلہ افزائی کا معاملہ بھی بنتا ہے ۔ جمعہ کی رات پیش آئے عصمت ریزی کے اس واقعہ میں تحقیقات کی رفتار تیز ہوگئی ہے ۔ اوبیر کمپنی کے ایک ڈرائیور پر یہ جرم کرنے کا الزام ہے جسے پولیس نے متھورا سے گرفتار کرلیا ہے ۔ پولیس عہدیدار نے کہا کہ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اپنے ایپ کے ذریعہ گاہک اور ڈرائیور کو رابطہ میں لانے میں کمپنی کے رول کو جاننا چاہتے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ اوبیر کمپنی کے جنرل مینیجر ( مارکٹنگ ) گگن بھاٹیا پولیس کی پوچھ تاچھ کے دوران سوالات کا اطمینان بخش انداز میں جواب نہیں دے سکے ۔