واشنگٹن 22 جنوری ( پی ٹی آئی ) صدر بارک اوباما کے مجوزہ دورہ ہندوستان کو ہندوستان کے ساتھ باہمی تعلقات میں بنیادی لمحہ قرار دیتے ہوئے امریکہ نے آج کہا کہ یہ دورہ در اصل اپنے تعلقات کی غیر معمولی صلاحیت و اہمیت کے تعلق سے دنیا کے نام ایک بہت اہم پیام ہے ۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ اوباما کا یہ دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب ہندوستان کے ساتھ امریکی ایجنڈہ میں اضافہ ہوگیا ہے قومی سلامتی کے نائب مشیر بن رہوڈس نے کہا کہ امریکہ کو امید ہے کہ صدر اوباما اور وزیر اعظم مودی کے مابین باہمی سمجھ بوجھ اور ان کے شخصی تعلقات سے ملک کیلئے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں ۔ 25 جنوری سے شروع ہونے والے بارک اوباما کے سہ روزہ دورہ ہند کے تعلق سے میڈیا کو واقف کرواتے ہوئے مسٹر رہوڈس نے کہا کہ دونوں ملک چاہیں گے کہ اس دورہ کے نتیجہ میں باہمی تعلقات کی غیر معمولی صلاحیتوں سے فائدہ حاصل کیا جائے تاکہ خود دونوں ملکوں کے عوام کو بھی ان تعلقات سے فائدہ ہوسکے ۔
انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے 26 جنوری کو یوم جمہوریہ پریڈ کے موقع پر صدر اوباما کو جو دعوت نامہ دیا تھا اس سے خود وائیٹ ہاوز ( امریکی قصر صدارت ) کو حیرانی ہوئی تھی ۔ اس دورہ کے موقع پر اوباما اور مودی کی بات چیت 25 جنوری کو ہونے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک دعوت نامہ کا تعلق ہے وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمیں کچھ حیرت ضرور ہوئی ہے ۔ رہوڈس نے کہا کہ توانائی پالیسی اور ماحولیاتی تبدیلی کے مسائل پر امریکی مصالحت کار اصل توجہ دینگے اور اس بات کی کوشش کرینگے کہ ڈسمبر میں پیرس میں ہونے والی کانفرنس سے قبل بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدہ وجائے ۔ انہوں نے معیشت ‘ دفاع اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل کو بھی دونوں قائدین کی بات چیت میں اہم موضوع قرار دیا ہے ۔ مسٹر رہوڈس نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی جمہوریتیں ہونے کی حیثیت سے امریکہ اور ہندوستان کے تعلقات میں بہت زیادہ صلاحیت ہے ۔ ہم چاہتے ہیںکہ اس صلاحیت کو ہمارے عوام کے فائدوں کیلئے موڑا جائے اور اوباما کا دورہ ہندوستان ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی ہندوستان کے ساتھ مصروفیت میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہمارے تعلقات کو بنیادی طور پر ایک مختلف مقام پر لیجایا جائے ۔ جب صدر اوباما نے عہدہ سنبھالا اور جب وزیر اعظم مودی کو ذمہ داری حاصل ہوئی ہم سمجھتے ہں کہ یہ ایک بے مثال موقع ہے کہ ہم اپنی نوعیت کی کامیابی حاصل کریں۔ گذشتہ سال ستمبر 29 اور 30 کو وائیٹ ہاوز میں ہوئی دونوں قائدین کی پہلی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے رہوڈس نے کہا کہ اس سے دونوں قائدین میں بہتر تال میل پیدا ہوا ہے جو دونوں ملکوں کیلئے اچھی بات ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ دونوں قائدین کی کیمسٹری اور شخصی تعلقات ہمارے ملک کیلئے مثبت نتائج برآمد کرسکتے ہیں۔ ایسے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ہندوستان ‘ ہندوستان کے لیڈر اور ہندوستان کے عوام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا اور انہیں مستحکم کرنا نفع بخش ہوگا ۔ یوم جمہوریہ کو منفرد موقع قرار دیتے ہوئے رہوڈسں نے کہا کہ اوباما یوم جمہوریہ کے موقع پر مدعو کئے جانے والے پہلے امریکی صدر ہیں اور اس سے دنیا کو ایک اہم پیام ملتا ہے ۔ اس کے علاوہ امریکی اور ہندوستانی عوام کو بھی اپنے تعلقات کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے اور اسے قبول کرنے کا پیام ملتا ہے ۔ اوباما کے ساتھ اس دورہ میں قومی سلامتی کے مشیر سوسان رائیس ‘ بااثر بزنس قائدین اور دوسرے اہم قانون ساز بشمول ہندوستانی امریکن کانگریس رکن امی بیرا بھی ہندوستان کا دورہ کرینگے ۔