ٹاملناڈو میں سرکاری کنٹراکٹ پر سڑکیں تعمیر کرنے والی کمپنی کے 22 احاطوں کی تلاشی
چینائی ؍ نئی دہلی 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) محکمہ انکم ٹیکس نے ٹاملناڈو میں سڑکوں کی تعمیر کے لئے ایک ادارہ کے مختلف احاطوں پر دھاوے کرتے ہوئے 163 کروڑ روپئے نقد اور 100 کیلو سونا ضبط کرلیا۔ اس محکمہ کی جانب سے اب تک برآمد کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔ سرکاری کنٹراکٹس پر سڑکوں اور قومی شاہراہوں کی تعمیرات میں مشغول ادارہ مسرس ایس پی کے اینڈ کمپنی کے احاطوں پر گزشتہ روز یہ دھاوے کئے گئے۔ محکمہ انکم ٹیکس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ ’’تاحال مشتبہ طور پر غیر محسوب 163 کروڑ روپئے اور تقریباً 100 کیلو طلائی زیورات ضبط کئے گئے ہیں اور دھاوے ہنوز جاری ہیں‘‘۔ عہدیداروں نے کہاکہ ملک کے کسی بھی مقام پر کئے جانے والے دھاوؤں میں برآمد کی جانے والی رقومات میں یہ اب تک کی سب سے بڑی رقم ہے۔ قبل ازیں 2016 ء میں نوٹ بندی کے بعد چینائی میں کانکنی کے ایک بڑے تاجر کے احاطوں پھر کئے گئے دھاوؤں میں 110 کروڑ روپئے ضبط کئے گئے تھے۔ محکمہ انکم ٹیکس کے چینائی تحقیقاتی شعبہ کی جانب سے یہ دھاوے کئے گئے تھے۔ انکم ٹیکس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہاکہ اس ادارہ اور معاونین کی طرف سے مشتبہ ٹیکس چوری کا ثبوت ملنے کے بعد محکمہ کی طرف سے یہ دھاوے کئے گئے تھے۔ باور کیا جاتا ہے کہ اس ادارہ اور پارٹنرس کے سیاسی روابط اور اثر و رسوخ ہیں۔ دھاوؤں کے دوران 22 احاطوں کی تلاشی لی گئی۔ جن میں چینائی میں واقع 17 ، اروپوکوٹائی (وریدہونگی) میں 4 اور کٹاپڈی (ویلور) میں ایک شامل ہے۔ ذرائع نے کہاکہ ضبط شدہ رقم بڑے ٹراویل بیاگس اور پارک کی ہوئی کاروں میں رکھی گئی تھی۔ اس کے ساتھ سونے کے درجنوں بسکٹس، متعدد دستاویزات اور کمپیوٹر ہارڈویر بھی ضبط کئے گئے ہیں۔