انکاؤنٹر کے مہلوکین کی نعشوں پر سیاسی سودا بازی

حیدرآباد 21 اپریل (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں جاری مصلحت پسندی کی سیاست ہر دن اپنا نیا رُخ ظاہر کررہی ہے۔ ریاست میں 5 مسلم زیردریافت قیدیوں کی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے بعد اس سیاست نے اپنا اصل چہرہ ظاہر کردیا ہے۔ حالانکہ ان نوجوانوں کے بارے میں جو دہشت گردی و دیگر سنگین الزامات کا سامنا کررہے تھے تاہم عدالت نے اپنا فیصلہ ابھی نہیں سنایا تھا۔ اس وجہ سے ساری قوم افسوس کا شکار ہے۔ قوم ایک طرف پریشان اور مبینہ طور پر ہراسانی کا شکار ہے تو دوسری طرف قوم کی رہنمائی کی ٹھیکیداری کے دعویدار اپنے اغراض کو مصلحت پسندی کا نام دے رہے ہیں۔ اور بازیگری کے دعویدار سوداگری پر اتر آئے ہیں۔ گزشتہ روز تلنگانہ راشٹرا سمیتی کی حلیف جماعت نے مصلحت پسندی کے تحت دو نامزد عہدوں کو حاصل کرنے کے اقدامات کا آغاز کیا۔ تاہم آج ایک اور حیرت انگیز انکشاف کے تحت مصلحت پسندی میں ایک اور انعام حاصل ہوا ہے۔ ایسا سمجھا جارہا ہے کہ مصلحت پسندی کے تحت انعامات میں بھی سودے بازی ہورہی ہے اور اس کے تحت وقف بورڈ پر دعویداری حاصل کرنے کے اقدامات کا آغاز ہوچکا ہے اور ایک ایسے شخص کا نام پیش کیا گیا جو قانونی داؤ پیچ میں مہارت رکھتا ہے جنھیں رکن کے ہونے کے جو شرائط تھے

اس کا پورا کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی تھی اور اس شخص کو ایک مقام پر آزمایا گیا تھا۔ مصلحت پسندی کے انعامات حاصل کرنے سودے بازی زوروں سے جاری ہے۔ قوم و ملت کی دہائی دینے والے اور گلی سے دہلی مسلمانوں کی رہنمائی کے دعویدار جیسے جیسے آگے بڑھتے جارہے ہیں ویسے ویسے ان کی اصلیت ظاہر ہورہی ہے۔ مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے اب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ آج پارلیمنٹ کے اجلاس میں انڈین یونین مسلم لیگ کے قائد جناب ای احمد نے تلنگانہ میں 5 مسلم زیردریافت قیدیوں کی انکاؤنٹر میں ہلاکت کے خلاف ایوان میں آواز بلند کی اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا لیکن مصلحت پسندی میں دو کے بعد اب ایک اور کل تین نامزد عہدے حاصل ہونا یقینی ہوگیا ہے۔ جس مقام سے وجود عمل میں آیا اور جس مقام سے وجود باقی اور برقرار ہے اس مقام پر ان عوام کے نام پر سوداگیری اور دعویداری ان ہی عوام میں بے چینی کا سبب بن گئی ہے۔