نئی دہلی 20 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) لوک سبھا میں جنرل سیلز ٹیکس (GST) بل پیش کرنے کے ایک دن بعد مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا ہے کہ حکومت، انشورنس شعبہ میں اصلاحات کیلئے عزم مصمم کئے ہوئے ہے۔ جسے روکنے کیلئے سیاسی مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انھوں نے ایف سی سی آئی کی ایک تقریب کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ انشورنس شعبہ میں اصلاحات کے لئے حکومت پیشرفت کرے گی اور اصلاحات کو روکنے یا تاخیر پیدا کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ترنمول کانگریس کے نام لئے بغیر مسٹر ارون جیٹلی نے کہاکہ ایک سیاسی جماعت جس کے ارکان چٹ فنڈ اسکام میں ملوث ہیں۔ راجیہ سبھا کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالتے ہوئے توجہ ہٹانے کی کوشش ہی ہے جہاں پر حکمراں این ڈی اے کو اکثریت حاصل نہیں ہے۔ وزیر فینانس نے اس بات پر افسوس کہاکہ انشورنس بل کو جس کے ذریعہ بیرونی راست سرمایہ کاری (FDI) کی قد میں 26 فیصد سے49 فیصد کردینے کی تجویز ہے۔ پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی اور راجیہ سبھا کی سلیکشن کمیٹی نے منظوری دے دی ہے۔ اس بل کو پارلیمنٹ کے ایجنڈہ میں شمولیت سے باز رکھنے کے لئے سیاسی رکاوٹ پیدا کی جارہی ہے۔انھوں نے کہاکہ اس طرح کے طرز عمل سے اصلاحات کے عمل کو روکا نہیں جاسکتا کیونکہ حکومت کو زبردست اکثریت حاصل ہے۔ سیاسی رکاوٹ سے نمٹنے کے لئے دستوری نظام موجود ہے اور اپوزیشن کے یہ حربے ناکام کردیئے جائیں گے۔ مسٹر ارون جیٹلی نے مزید کہاکہ کوئلہ بل ایک اور اہم قانون سازی جسے راجیہ سبھا میں سیاسی رکاوٹ کے ذریعہ منظوری سے روک دیا گیا ہے۔ اگرچیکہ لوک سبھا میں یہ بل منظور کردیا گیا ہے لیکن راجیہ سبھا میں مباحث کے لئے اڑچن پیدا کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ وزیر فینانس نے ایک طویل عرصہ تک تاخیر کے بعد لوک سبھا میں جنرل سیلز ٹیکس بل پیش کیا ہے جس کے ذریعہ اپریل 2016 ء سے ملک بھر میں اشیائے تجارت و خدمات پر صرف ایک مرتبہ ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
ملک میں محاصل اندازی کا تذکرہ کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ نئی حکومت، ایک سے زائد مرتبہ ٹیکس کی وصولی کے اندیشوں کو ختم کردینا چاہتی ہے جوکہ ملک کیلئے بدنامی کا باعث ہے۔ انھوں نے بتایا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں معاشی ترقی سست رفتار ہے اور سرمایہ کار ہندوستان آنے کے خواہشمند ہیں جس کے پیش نظر ملک کے کئی ایک شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور حکومت اس خصوص میں پیشرفت جاری رکھے گی۔