کھٹمنڈو۔23نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سارک ممالک کے معتمدین خارجہ کا ایک اجلاس نیپال کے دارالحکومت میں منعقد کیا گیا تاکہ کئی مسائل جیسے انسداد دہشت گردی و غربت ‘ برقی توانائی کی صیانت اور تبدیلی ماحولیات پر تبادلہ خیال کیا جاسکے ۔ ہندوستان کے اعلیٰ سطحی سفارتی وفد کی قیادت معتمد خارجہ سجاتا سنگھ کررہی تھیں ۔ یہ 25تا 27نومبر مقرر 18ویں سارک چوٹی کانفرنس سے پہلے سارک کی مجلس قائمہ کا 41واں اجلاس ہے ۔ اجلاس کے دوران معتمد خارجہ مالدیپ محمد نے صدارت نیپال کے کارگذار معتمد خارجہ شنکر داس بیراگی کے سپرد کی ۔ بیراگی نے کہا کہ چونکہ دہشت گردی اُس کی تمام اشکال اور توسیعات میں ہمارے علاقہ کیلئے ایک ناقابل فراموش چیلنج ہے ۔ باہمی تعاون اور متحدہ کوششیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضروری ہے ۔ سارک کی وقفہ وقفہ سے پیش کی جانے والی تجزیاتی رپورٹ اور سارک کی سرگرمیوں کی نیپال کی رپورٹ پیش کی گئی ۔ یہ رپورٹس سارک کی پروگرامنگ کمیٹی نے تیار کی ہیں اور سارک معتمدین کابینہ کے دوسرے اجلاس میں تیار کی گئی ہیں۔ معاشی تعاون اور سارک ترقیاتی فنڈ پر مجلس قائمہ کے اجلاس میں غور کیا گیا ۔ بیراگی نے کہا کہ انسداد غربت سارک کے ایجنڈہ کا برسوں سے سب سے بڑا مسئلہ رہا ہے ۔
ہمارے عوام کی چوتھائی تعداد اب بھی خطہ غربت کے سطح سے نیچے زندگی گذار رہی ہے اور اکثر بھوکی رہتی ہے۔ حالانکہ اس سلسلہ میں کافی کوششیں کی گئی ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ غربت اور بھوک کے اس علاقہ سے صفائے کیلئے کوششوں کو دگنا کردینا ضروری ہے کیونکہ یہ علاقہ برقی توانائی کی شدید قلت کا سامنا کررہا ہے ۔ اس شعبہ میں بامعنی باہمی تعاون کے ذریعہ زبردست ترقی ممکن ہے ۔ تجارت میں وسیع امکانات موجود ہیں جو اس علاقہ کو ایک متحرک معاشی زون بناسکتے ہیں اور فیصلہ کن کارروائیوں کے ذریعہ ہمیں مؤثر انداز میں جنوبی ایشیائی آزاد تجارت علاقہ معاہدہ پر عمل آوری کرنی چاہیئے ۔ دیگر کئی شعبوں انسداد غربت ‘ اطلاعات و مواصلات ‘ ٹکنالوجی ‘ ٹرانسپورٹ‘ توانائی‘ زراعت ‘ دیہی ترقی ‘ غذائی صیانت ‘ تبدیلی ماحولیات ‘ آفات سماوی ‘ صحت ‘آبادی ‘ منشیات اور تعلیمات میں بھی باہمی تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں ۔