نئی دہلی۔ /9ڈسمبر، ( سیاست ڈاٹ کام )مرکزی حکومت نے آج کہا ہے کہ قانون انسداد بچہ مزدوری میں ترمیم کے بعد اگر والدین اپنے بچوں سے دوسری مرتبہ مزدوری کروائیں گے تو انہیں 5000 روپئے جرمانہ اور ایک سال کی سزائے قید ہوگی۔ مرکزی مملکتی وزیر لیبر و ایمپلائمنٹ مسٹر بنڈارو دتاتریہ نے بتایا کہ اگر 14سال کی عمر تک کے بچوں سے کام لیا گیا تو پہلی مرتبہ آجرین پر 60ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔چائیلڈ لیبر پر ایک پروگرام کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک بھر سے بچہ مزدوری کے خاتمہ کیلئے مرکزی حکومت سنجیدہ ہے،اگر والدین دوسری مرتبہ جرم کا ارتکاب کریں گے تو وہ بھی مستوجب سزا ہوں گے اوربچوں کو مزدوری سے آزاد کروانے کے بعد والدین دوبارہ اپنے بچوں کو کام پر لگادیں گے تو ان پر5ہزار روپئے جرمانہ عائد کیا جائے گا اور 6تا 12ماہ تک جیل کی سزا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی اپنے یہاں 14سال کی عمر کے بچوں سے کام کرواتے ہوئے دوسری مرتبہ پکڑا گیا تو اسے دو سا ل کی سزا ئے قید ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت پارلیمنٹ میں چائیلڈ ایکٹ میں ترمیم منظور کروانے کی ممکنہ کوشش کرے گی۔
مرکزی وزیر نے مزید بتایا کہ چائیلڈ لیبر ترمیم بل 2012 14سال کی عمر تک بچہ مزدوری پرمکمل پابندی عائد کرتا ہے جبکہ ملک بھر سے8.2 ملین ( 82لاکھ ) بچے بحیثیت بچہ مزدور کام کررہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت بڑے پیمانے پر بچوں میں پیشہ ورانہ مہارت کی تربیت کا پروگرام شروع کرے گی تاکہ وہ ایک کارآمد اور قابل فخر شہری بن سکیں تاہم مسٹر بنڈارودتاتریہ نے کہا کہ ایک مرتبہ اگر بچہ کام کا عادی ہوگیا تو اسے سمجھانا مشکل ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چائیلڈ لیبر ایکٹ میں ترمیم کے تحت 15تا 18سال کے بچوں سے مضر صحت پیشوں میں کام نہیں لیا جاسکتا۔ واضح رہے کہ چائیلڈ لیبر ( پروہبیشن اینڈ ریگولیشن ) ترمیمی بل 2012 کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا تھا لیکن یہ پارلیمنٹ کی اسٹانڈنگ کمیٹی کے پاس معرض التواء ہے۔