پٹنہ ۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس قائدین نے نریندر مودی کا تقابل اندرا گاندھی سے کرنے پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ’’کہاں راجا بھوج، کہاں گنگوتیلی‘‘ ان دونوں کے درمیان کوئی تقابل نہیں ہوسکتا۔ اندرا گاندھی نے اپنی ساری زندگی قومی اتحاد کیلئے کام کیا جبکہ نریندر مودی سماج میں پھوٹ ڈالنے اور ملک میں نفرت پھیلانے کیلئے جانے جاتے ہیں۔ اندرا گاندھی کی 97 یوم پیدائش کے موقع پر کانگریس نے قائدین نے کہا کہ نریندر مودی نے اندرا گاندھی کی شہادت کو نہیں سمجھا ہے۔ 31 اکٹوبر کو منعقدہ ان کی یوم شہادت تقریب سے وہ غیر حاضر رہے۔ بہار پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اشوک چودھری نے سابق و زیراعظم اندرا گاندھی کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی اندرا گاندھی کی شہادت کو فراموش کررہے ہیں۔ مودی نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ ان کیلئے خود نقصاندہ ہے۔ انہیں اپنی حرکتوں سے گاندھی کی توہین نہیں کرنی چاہئے کیونکہ انہیں ایسا کرنے کا اختیار نہیں۔ سابق اسپیکر لوک سبھا میرا کمار نے کہا کہ نریندر مودی اپنی پارٹی کو ہتھیلی میں جنت دکھا رہے ہیں جبکہ بی جے پی کیلئے وہ اماوس کی رات ہیں۔ اندرا گاندھی نہ صرف ایک شخصیت تھیں بلکہ وہ حوصلہ مند، مضبوط ارادوں والی ، کئی خوبیوں کی حامل خاتون تھیں۔
فیس بک پر مودی کے 25 ملین حامی
نئی دہلی ۔ 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ ہوتے جارہا ہے۔ فیس بک پر ان کے حامیوں کی تعداد میں مزید 7 ملین کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی کے ساتھ مودی کے حامیوں کی تعداد 25 ملین ہوگئی ہے۔ نریندر مودی پوری سرگرمی کے ساتھ سوشل میڈیا فیس بک کا استعمال کرتے ہیں۔ گذشتہ 5 ماہ کے دوران ہی ان کے فیس بک فرینڈس میں 7 ملین حامیوں کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح نریندر مودی ٹوئیٹر پر بھی سب سے زیادہ مقبولیت رکھنے والے تیسرے لیڈر ہیں۔ اوباما اور پوپ کے بعد مودی کے 8 ملین حامی ہیں۔ اوباما کو ٹوئیٹر پر سب سے زیادہ مقبولیت حاصل ہے۔ ان کے 43 ملین حامی ہیں۔ ان کے بعد پوپ فرانسیس کے 14 ملین پرستار ہیں۔ اس سال مئی میں انتخابات جیتنے کے بعد سے نریندر مودی کی مقبولیت میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔