اقلیتوں کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھنے کا کے سی آر پر الزام، محمد علی شبیر کا شدید ردعمل
حیدرآباد۔/24اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ انجینئرنگ کالجس کے بارے میں اپنے رویہ میں تبدیلی لائے اور جاریہ تعلیمی سال خوشگوار انداز میں داخلوں کو یقینی بنائے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فیس بازادائیگی اسکیم کی برخواستگی کے منصوبہ کے سبب کئی کالجس کا مستقبل خطرہ میں پڑ چکا ہے اور ہزاروں طلبہ داخلوں سے محروم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اقلیتی کالجس کو مختلف خامیوں کے عنوان پر نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ یہ کالجس گزشتہ 10تا15برس سے بہتر نتائج کے ساتھ کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی جانب سے کئی کالجوں کا معائنہ کئے بغیر ہی ان کی مسلمہ حیثیت کو ختم کردیا گیا جبکہ کالجس کے انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس تمام تر بنیادی سہولتیں موجود ہیں۔ محمد علی شبیر نے شبہ ظاہر کیا کہ حکومت کے اشارے پر ہی جے این ٹی یو نے 175 کالجس کو داخلوں کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ ایک طرف اقلیتوں کی تعلیمی ترقی کے دعوے کررہے ہیں تو دوسری طرف ان کے اقدامات اقلیتوں کو اعلیٰ تعلیمی کورسیس میں دور کرنے کے مترادف ہیں۔ اگر اقلیتی کالجس کو بند کردیا گیا تو ظاہر ہے کہ اقلیتی طلبہ کے داخلے متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کو فیس باز ادائیگی اسکیم میں بے قاعدگیوں کا اندیشہ ہے تو اس کے لئے نئے طریقہ کار اور قواعد کا تعین کیا جاسکتا ہے۔ برخلاف اس کے کئی کالجس کو بند کرنے کی سازش افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی فیس کے سلسلہ میں حکومت نے 1956سے تلنگانہ میں قیام کی جو شرط مقرر کی ہے وہ ناقابل قبول ہے، اس سے حکومت کے ارادوں کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ کس طرح اس اسکیم کو ختم کرنا چاہتی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ چیف منسٹر اور وزیر تعلیم کی جانب سے کالجس کے انتظامیہ کو تیقن کے باوجود ہائی کورٹ میں ایڈوکیٹ جنرل نے مخالف کالجس موقف اختیار کیا۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ کالجس اور طلبہ کے تحفظ کیلئے فوری مداخلت کرے۔ انہوں نے کہا کہ نئی اسکیم Fast کے نفاذ کے سلسلہ میں حکومت کی جانب سے تاحال قواعد کو قطعیت نہیں دی گئی جس کے باعث طلبہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جاریہ تعلیمی سال انجینئرنگ کالجس میں گزشتہ سال کی طرح داخلوں کی اجازت نہیں دی گئی تو اس سے ان طلبہ کا بھی نقصان ہوگا جو کورس کے درمیان میں ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ تعلیمی فیس کے مسئلہ پر اپنے موقف کی وضاحت کرے۔