انجینئرنگ و میڈیکل کونسلنگ ، مسلم طلبہ کو 12 فیصد تحفظات پر عمل ممکن نہیں

حکومت کا موقف ہنوز غیر واضح ، اقلیتوں میں تشویش ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل معلق
حیدرآباد۔/17جون، ( سیاست نیوز) جاریہ ماہ کے اواخر میں انجینئرنگ اور میڈیسن میں داخلوں کیلئے کونسلنگ کے آغاز کے پیش نظر مسلم تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں اقلیتی طلبہ میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کا وعدہ کیا ہے جبکہ فی الوقت 4فیصد تحفظات پر عمل آوری کی جارہی ہے جس کا آغاز کانگریس دور حکومت میں ہوا تھا۔ قانون ساز کونسل میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مسلم تحفظات کے مسئلہ پر فوری کُل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں حکومت کو اپنا موقف واضح کرنا چاہیئے کیونکہ پیشہ ورانہ کورسیس میں داخلوں کیلئے کونسلنگ کا آغاز قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ میں اس بات کی تشویش ہے کہ آیا حکومت جاریہ 4فیصد تحفظات پر عمل کرے گی یا نہیں۔ چیف منسٹر نے کونسل میں مباحث کا جواب دیتے ہوئے یہ واضح کردیا تھا کہ جاریہ تعلیمی سال 12فیصد تحفظات کی فراہمی ممکن نہیں کیونکہ اسے بعض قانونی اور دستوری مراحل کی تکمیل کرنی ہے۔ حکومت تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں ریٹائرڈ جج کے ذریعہ کمیشن کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے اور کمیشن کی سفارشات کی بنیاد پر ہی تحفظات کی فراہمی کیلئے اسمبلی میں قانون سازی کی جائے گی۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ طلبہ میں پھیلی بے چینی دور کرنے اور 12فیصد تحفظات پر عمل آوری کی حکمت عملی واضح کرنے کیلئے چیف منسٹر کو کُل جماعتی اجلاس طلب کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن قائدین سے اس بات کی وضاحت کرے کہ وہ کب کمیشن قائم کرے گی اور رپورٹ کی پشیکشی کیلئے اسے کتنی مہلت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کی تعلیمی ترقی سے متعلق اس اہم فیصلہ پر حکومت کو فوری اپنی پالیسی کی وضاحت کرنی چاہیئے ورنہ ہزاروں اقلیتی طلبہ تحفظات کے ثمرات سے محروم ہوجائیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مانگ کی کہ وہ ایمسیٹ کنوینر کو اس بات کی ہدایت دے کہ جاریہ 4فیصد تحفظات پر عمل کرتے ہوئے کونسلنگ کے دوران اقلیتی طلبہ کو نشستیں الاٹ کی جائیں۔انہوں نے کہا کہ چونکہ ٹی آر ایس حکومت کا وعدہ 12فیصد کا ہے لہذا داخلوں کے سلسلہ میں کونسلنگ کے دوران عہدیدار 4فیصد تحفظات کو نظرانداز کرسکتے ہیں لہذا حکومت کو اس سلسلہ میں احکامات جاری کرتے ہوئے ایمسیٹ اور دیگر اہلیتی امتحانات کے کنوینرس کو 4فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے پابند کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحفظات سے متعلق سپریم کورٹ میں جاری مقدمہ کی مناسب پیروی پر توجہ مبذول کرے کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم التواء کے ذریعہ ہی آندھرا پردیش میں تحفظات کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اگر حکومت اس مقدمہ کی پیروی میں سُست روی سے کام لے گی تو پھر موجودہ 4فیصد تحفظات بھی خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کو مشورہ دیا کہ وہ کُل جماعتی اجلاس کے علاوہ ماہرین قانون و دستور سے بھی مشاورت کریں اور 4فیصد تحفظات میں اہم رول ادا کرنے والے عہدیداروں سے بھی مشاورت کی جائے۔