انتخابی ڈیوٹی سے بچنے کے لیے بہانہ بازی کرنے والوں کو سخت انتباہ

سربراہان محکمہ جات کو ماتحتین کی رخصت نا منظور کرنے کی ہدایت ، الیکشن کمیشن کی ہدایت پر عمل کی کوشش
حیدرآباد۔27مارچ(سیاست نیوز) انتخابی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کی کوشش کرنے کے علاوہ انتخابی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے بچنے کیلئے بہانے کرنے والوں کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کی جانب سے ان پر کاروائی کی جائے گی۔ عام انتخابات کے دوران جن ملازمین اور عہدیداروں کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام ہونے والوں کو الیکشن کمیشن کی جانب سے انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تمام محکمہ جات جن کے عہدیداروں و ملازمین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں ان محکمہ جات کے سربراہان کو چاہئے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے ماتحتین کی رخصت منظور نہ کریں کیونکہ انتخابی ذمہ داریاں قومی ذمہ داریوں کے مترادف ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تمام ضلعی الکٹورل آفیسر کو اس بات کی واضح ہدایات جاری کردی گئی ہیں کہ وہ اپنے اضلاع میں اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام ملازمین انتخابی ذمہ داری ادا کریں ۔ کمیشن کی جانب سے اس بات کی بھی صراحت کردی گئی ہے کہ کس صورت میں انتخابی ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے قاصر عہدیداروں یا ملازمین کو راحت فراہم کی جائے ۔ریاست تلنگانہ میں محکمہ تعلیم ‘ محکمہ پولیس اور محکمہ مال کی جانب سے اپنے عہدیداروں اور ملازمین کو اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں انتخابی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرنے کی کوشش نہ کریں ایسا کرنے کی صورت میں ان کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی کاروائی کی جائے گی۔ بتایاجاتا ہے کہ جن عہدیداروں وملازمین کو انتخابی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں انہیں ان کی ذمہ داریوں کے علاوہ مقامات کے سلسلہ میں بھی احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اور ان کی تربیت کا سلسلہ جاری ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے بعد محکمہ جاتی عہدیداروں نے ازسرنو ہدایات جاری کرتے ہوئے ان احکامات کا اعادہ کیا ہے اور عہدیداروں کو اس بات کا پابند بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں کہ وہ کسی بھی حالت میں انتخابی ذمہ داریوں کی انجام دہی میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ کریں۔ انتخابی ذمہ داریوں کی ادائیگی کرنے والے ملازمین وعہدیداروں کو جاری کردہ ہدایات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی امیدوار یا جماعت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ذمہ داریوں پر اثر انداز ہونے نہ دیں۔