انتخابی مہم کا عملاً آغاز ‘ تمام جماعتیں سرگرم

وجیماں ‘ شرمیلا کے روڈ شوز ‘ چندرابابونائیڈو کا جلسوں سے خطاب ‘ کانگریس قائدین بھی مصروف

حیدرآباد 23 مارچ ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی کے انتخابات سے ایک ماہ قبل ہی سیما آندھرا علاقہ میں مہم شدت اختیار کرگئی ہے اگرچہ مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین اتحاد و مفاہمت پر شش و پنج برقرار ہے۔ آندھرا پردیش کی ایک طرفہ تقسیم اور اس مسئلہ پر عوام کی برہمی اور اپنے کئی قائدین کے انحراف کی شکار کانگریس پارٹی کے علاقائی قائدین مرکزی وزیر چرنجیوی اور نو تشکیل شدہ آندھرا پردیش کانگریس کمیٹی کے قائدین نے ووٹروں تک رسائی اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کیلئے گذشتہ ہفتہ بڑے پیمانے پر عوامی رابطہ پروگرام کا آغاز کیا۔آندھرا پردیش کی تقسیم کیلئے سابق چیف منسٹر کرن کمار ریڈی کو راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے چرنجیوی نے کہا کہ کانگریس نے تقسیم کا فیصلہ نہیں کیا ۔ انہوں نے سیما آندھرا کی ترقی کیلئے مرکز کے پیاکیج کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی۔ چرنجیوی اور دیگر کانگریس قائدین نے اڑیسہ سرحد سے متصلہ ساحلی آندھرا کے ضلع سریکاکلم میں 21 مارچ سے بس یاترا کا آغاز کیا جو توقع ہے کہ کرناٹک سے متصلہ رائل سیما کے ضلع اننت پور میں 27 مارچ کو ختم ہوگی۔ سیما آندھرا میں 7 مئی اور تلنگانہ میں 30 اپریل کو رائے دہی مقرر ہے ۔ سیما آندھرا میں لوک سبھا کی 25 اور اسمبلی کی 175نشستیں ہیں۔ تلنگانہ میں لوک سبھا کی 17 اور اسمبلی کی 119 نشستیں ہیں۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے صدر جگن موہن ریڈی ان کی والدہ اور پارٹی کی اعزازی صدر وائی ایس وجیہ اماں ، جگن کی بہن شرمیلا گذشتہ کئی دن سے سیما آندھرا کے مختلف اضلاع کا دورہ کررہے ہیں۔ کرن کمار ریڈی کے زیر قیادت کانگریس حکومت کے نصف درجن سے زائد وزراء کے انحراف اور اپنی صفوں میں شمولیت کے بعد تلگودیشم پارٹی کے حوصلے کافی بلند ہوگئے ہیں۔

اس اپوزیشن پارٹی میں حکمراں جماعت کے متعدد ارکان اسمبلی اور سرکرہ قائدین بھی شامل ہوئے ہیں۔ اس دوران تلگودیشم پارٹی کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو بھی سیما آندھرا میں عام جلسوں سے خطاب میں مصروف ہیں۔ سابق چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی جو ریاستی کی تقسیم کے خلاف بطور احتجاج اپنے عہدہ اور کانگریس پارٹی سے مستعفی ہوچکے ہیں جئے سمیکھیا آندھرا پارٹی کا قیام عمل میں لایا ہے اور فی الحال ضلع کرشنا میں مہم چلا رہے ہیں۔ سیما آندھرا علاقہ میں قدم جمانے کی کوشش کے طور پر بی جے پی کے سینئر لیڈر ایم وینکیا نائیڈو مودی کی تائید میں کنونشن سے خطاب کررہے ہیں اور انہوں نے سیما آندھرا کو ترقیاتی پیاکیج دلوانے کیلئے اپنی پارٹی کی طرف سے پارلیمنٹ میں کی جانے والی مساعی کو بھی اجاگر کیا۔ زعفرانی جماعت کو اس وقت زبردست تقویت ملی جب تلگو فلموں کے مقبول اداکار پون کلیان نے حال ہی میں جنا سینا پارٹی قائم کرنے کے بعد گجرات کے چیف منسٹر نریندر مودی سے ملاقات کی اور وزارت عظمی کے عہدہ کیلئے ان کی امیدواری کی تائید کی۔ اس دوران انتخابی مفاہمت کیلئے تلگودیشم پارٹی اور بی جے پی میں مذاکرات جاری ہیں اگرچہ دونوں جماعتیں نشستوں پر مفاہمت پر کسی پیشرفت میں تاحال ناکام رہے ہیں۔ آندھرا پردیش کے سیاسی حلقوں میں یہ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ تلگودیشم پارٹی، بی جے پی ، جنا سینا اور سابق آئی اے ایس افسر جئے پرکاش نارائن کی لوک ستہ پارٹی پر مشتمل ایک وسیع اتحاد بنایا جائے گا۔ تلنگانہ میں کانگریس ہنوز اپنے امیدواروں کی نشاندہی اور فہرست کی تیاری کے عمل میں مصروف ہیں اور انتخابی مہم کا رسمی طور پر آغاز نہیں ہوا ہے۔

تلنگانہ راشٹرا سمیتی (ٹی آر ایس ) نے اگرچہ کانگریس کے ساتھ انضمام تو کجا مفاہمت سے بھی انکار کردیا ہے لیکن کانگریس کو امید ہے کہ علحدہ تلنگانہ کے خواب کو حقیقت میں بدلنے پر اس (کانگریس ) کو عوام کی زبردست تائید حاصل ہوگی جس سے وہ انتخابات میں بھر پور فائدہ اٹھائیں گے۔ دوسری طرف کانگریس مفاہمت کیلئے سی پی آئی سے بھی بات چیت میں مصروف ہیں اس پارٹی نے علحدہ تلنگانہ کی تائید کی تھی لیکن تاحال رسمی طور پر کوئی اعلان نہیں ہوسکا ہے۔علحدہ تلنگانہ کے قیام میں اپنے رول پر ٹی آر ایس کو عوام کی تائید حاصل ہونے کی امید ہے چنانچہ ٹی آر ایس اپنی انتخابی تیار ی میں شدت پیدا کردی ہے اور اپنے صدر کے چندرا شیکھر راو کی مہم کیلئے کرایہ پر ہیلی کاپٹر بھی حاصل کررہی ہے۔ تلگودیشم اور بی جے پی کے درمیان مفاہمت کے ایک سوال پر بی جے پی کے ریاستی صدر کشن ریڈی نے جواب دیا کہ انتخابی مفہمت کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کا اعلان کیا جائے گا۔ کشن ریڈی نے بلدی انتخابات کیلئے آج اپنی پارٹی کا انتخابی منشور جاری کیا۔