دو طالبات کو یو ایس کونسلیٹ کے انعامات آئی پیاڈ اور آئی پاڈ
حیدرآباد ۔ 22 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : عالمی یوم خواتین کے موقع مارچ 2015 میں ایک تحریری مقابلہ بہ عنوان ’ مائی سوپر ہیرو ‘ رکھا گیا تھا ۔ اس کا اہتمام یو ایس کونسلیٹ جنرل حیدرآباد اور روزنامہ سیاست کے باہمی اشتراک سے کیا گیاتھا ۔ جس میں زائد از 200 طلبہ نے حصہ لیا اور انعام اول اور انعام دوم انعام پانے والے طلبہ کو امریکن کونسلیٹ کی جانب سے آئی پیاڈ اور آئی پاڈ اور سرٹیفیکٹ عطا کئے گئے ۔ دفتر سیاست میں جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے پہلا اور دوسرامقام پانے والے طالبات کو انعامات عطا کئے ۔ اس موقع پر یو ایس کونسلیٹ حیدرآباد کے عہدیداران مسٹر گروٹ سنگھ اسسٹنٹ پبلک افیرس آفیسر نے انعام یافتہ طالبہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے مستقبل کے عزائم سے آگاہی حاصل کی ۔ جناب محمد عبدالباسط میڈیا اڈوائزر یو ایس کونسلیٹ جنرل نے تفصیلات بتاتے ہوئے اول ، دوم مقام پانے والے طلبہ کے ناموں کا اعلان کیا ۔ اس تحریری مقابلہ میں پہلا مقام جہاں معراج خان متعلم ماونٹ مرسی اسکول ٹولی چوکی نے حاصل کیا اور دوسرا مقام پاکر انعام دوم کی حقدار ایک جسمانی معذور غیر معمولی ذہانت رکھنے والی طالبہ شائمہ ندا رہیں ۔ ان کا انعام ان کے والد جناب اویس علی نے حاصل کیا ۔ جناب زاہد فاروقی اس مقابلے کے کوآرڈینٹر تھے ۔ جنہوں نے مکمل معاونت کی ۔ اس موقع پر انعام حاصل کرنے والی اول مقام کی طالبہ جہاں معراج خاں نے نمائندہ سیاست کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتلایا کہ وہ ورلڈ ویمن ڈے پر جس شخصیت کو سوپر ہیرو مانے گی وہ ان کی ’ ماں ‘ ہیں ۔ جو ان کی آئیڈیل اور گائیڈ ہیں ان کے اس اظہار خیال نے ان کو پہلا مقام دلایا جو حقیقت میں بھی ہیرو کا رول ادا کررہی ہیں ۔ جہاں معراج خان ’ فادر ڈے ‘ کا بھی خصوصی اہتمام کرتی ہیں ۔ ان کے لیے یہ مقابلے جیتنا اور پہلا مقام حاصل کرنا ایک اعزاز ہے اور ان کی والدہ عائشہ خان HSBC بنک میں ملازمت کرتی ہیں ۔ یہ اس سفر کو جاری رکھتے ہوئے اپنے کیرئیر میں ڈاکٹر بننا چاہتی ہیں ۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست نے انہیں آئی اے ایس کا مشورہ دیا اور کہا کہ وہ آئندہ 6 برسوں میں سیول سرویس کو اپنی تعلیم جاری رکھتے ہوئے ٹارگٹ بنائیں ۔ دوسرا مقام پاکر انعام دوم حاصل کرنے والی طالبہ ایک غیر معمولی خدا داد صلاحیت کی حامل جسمانی معذور 18 سالہ طالبہ شائمہ ندا ہیں ۔ ان کے والد اویس علی نے اس طالبہ کے متعلق بتلایا کہ وہ ہڈیوں کے ایک لا علاج مرض میں مبتلا ہیں ۔ چل پھر نہیں سکتی ہیں 18 سال عمر ہے ،وہ بغیر اسکولی تعلیم کے گھر پر 4 زبانیں سیکھی ہیں ، بہترین آرٹسٹ ہیں ۔ کمپیوٹر سے خوب واقف ہیں ۔ اپنا لیاپ ٹاپ اچھی طرح استعمال کرتی ہیں ۔ کارٹون اچھے سے اچھے بناتی ہیں ۔ عربی ، اردو ، انگلش ، تلگو زبان سے واقف ہیں ۔ اس معذور طالبہ کی ہڈیاں کمزوری کی وجہ جگہ جگہ سے ٹوٹ جاتی ہیں لیکن وہ عزم اور حوصلہ سے ہر دن کچھ نہ کچھ کرتی ہیں ۔ اس موقع پر کیرئیر کونسلر ایم اے حمید نے ان کی کونسلنگ کی اور معلومات فراہم کیں ۔۔