ہندوستانی انتخابات عالمی سطح پر اعظم ترین جمہوری عمل
واشنگٹن۔ 21 جون (سیاست ڈاٹ کام) ایک وقت تھا جب نریندر مودی گجرات ریاست کے وزیراعلیٰ تھے اور انہیں امریکہ نے ویزا دینے سے انکار کردیا تھا لیکن اب جبکہ مرکز میں بی جے پی اقتدار حاصل کرچکی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی ہیں، ماہ ستمبر میں مودی امریکی کانگریس کے مشترکہ سیشن سے خطاب کریں گے۔ اس سلسلے میں پیش کردہ تجویز ایوان کے اسپیکر جان بوہینر کو ایڈ رائس نے پیش کی ہے جو ایوان نمائندگان کی داخلی اُمور کمیٹی ری پبلیکن صدرنشین ہیں جس میں خصوصی طور پر تحریر کیا گیا ہے کہ ہندوستان امریکہ کا ایک اہم شراکت داری ہے۔ جنوبی ایشیائی میں سیاسی، معاشی اور سکیورٹی تعلقات میں ہندوستان سے بہتر امریکہ کا کوئی شراکت دار نہیں اور یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں کہ امریکہ اور ہندوستان کی شراکت داری اکیسویں صدی کی اہم ترین شراکت داری ہے۔ تجویز کے لئے تحریر کردہ مکتوب پر نارتھ کیرولینا کے ری پبلیکن نمائندہ جارج ہولڈنگ کے بھی دستخط موجود ہیں۔ مکتوب میں مزید تحریر کیا گیا تھا کہ ہندوستان میں حال ہی میں منعقدہ انتخابات میں 500 ملین افراد نے اپنے حق رائے دہی سے استفادہ کیا جیسے عالمی طور پر جمہوریت کا اعظم ترین عمل اور ہندوستان کے لئے تاریخی واقعہ قرار دیا جاسکتا ہے، لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہند۔ امریکہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لئے امریکہ کو وزیراعظم مودی کے ساتھ مل جل کر کام کرنا ہوگا۔