واشنگٹن ؍ نئی دہلی 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ وہ ہندوستان میں قائم ہونے والی آئندہ حکومت کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرنے کے متمنی ہیں تاکہ آنے والے برسوں کو دونوں ملکوں کے لئے مساویانہ طور پر مکمل تبدیلی سے ہمکنار کیا جاسکے۔ صدر اوباما نے لوک سبھا انتخابات کی کامیاب تکمیل پر ہندوستانی عوام کو مبارکباد دی اور کہاکہ اس ملک (ہندوستان) نے سب سے بڑے جمہوری انتخابات کی تاریخ بناتے ہوئے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ 9 مرحلوں پر مشتمل رائے دہی گزشتہ روز ختم ہوئی اور 16 مئی کو دونوں کی گنتی ہوگی۔ صدر اوباما نے گزشتہ روز اپنے ایک صحافتی بیان میں کہاکہ ’’نتائج کے اعلان کے بعد ہم ایک نئی حکومت کے قیام کے منتظر ہیں
اور ہندوستان میں آئندہ حکومت سے قریبی تعاون کے ساتھ کام کرنے کے متمنی ہیں تاکہ آنے والے برسوں کو دونوں ملکوں کے لئے مساویانہ طور پر مکمل تبدیلی کے قابل بناسکیں‘‘۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ’’ہندوستان نے تاریخ کے سب سے بڑے جمہوری انتخابات کے انعقاد کے ذریعہ ساری دنیا کے لئے ایک نئی مثال قائم کیا ہے جو کثرت میں وحدت اور آزادی سے متعلق ہماری مشترکہ قدروں کا ایک عملی مظاہرہ بھی ہے‘‘۔ اوباما نے اپنے بیان میں گزشتہ دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر فروغ دی گئی دوستی کا بھی تذکرہ کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ ’امریکہ اور ہندوستان نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران مضبوط دوستی اور جامع رفاقت کو فروغ دیا جس سے ہمارے شہر پہلے سے زیادہ محفوظ اور کئی گنا خوشحال ہوتے ہیں
اور اس سے عالمی چیالنجوں سے نمٹنے کیلئے مشترکہ کام کرنے ہماری صلاحیتوں میں اضافہ ہو‘‘۔ علاوہ ازیں امریکی دفتر خارجہ نے اپنے علیحدہ بیان میں انتخابات کے کامیاب انعقاد پر ہندوستانی عوام کو مبارکباد دی اور کہاکہ امریکہ ان قائدین کے ساتھ کام کرنے کا متمنی ہے جنھیں عوام اپنی رفاقت پر پیشرفت اور ایک پُرعزم ایجنڈہ کو روبہ عمل لانے کے لئے منتخب کئے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کی ترجمان جن پساکی نے کہاکہ ’’ہندوستانی عوام کی طرف سے منتخب کئے جانے والے قائدین کے ساتھ قریبی تعاون سے تیار ہیں تاکہ اس اہم رفاقت کو آگے بڑھایا جائے اور ایک پُرعزم ایجنڈہ مقرر کیا جائے‘‘۔ جن پساکی نے مزید کہاکہ ’’ہم ہندوستانی عوام کو انسانی تاریخ کے سب سے بڑے آزاد و غیر جانبدار جمہوری انتخابات میں حصہ لیا‘‘۔ پساکی نے 9 ویں اس قطعی مرحلہ کی رائے دہی کے اختتام کے چند گھنٹوں بعد ہی یہ بیان دیا۔
پساکی نے کہاکہ گزشتہ چھ ہفتوں کے دوران 500 ملین مستحق ووٹروں نے پرامن طور پر اپنا حق رائے دہی ادا کیا ان میں وہ بھی ہیں جنھوں نے دور دراز کے ناقابل رسائی مقام پر پہونچ کر اپنا ووٹ ڈالا۔ جن پساکی نے ایگزٹ پول پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا جس میں اشارہ دیا گیا ہے کہ بی جے پی لیڈر نریندر مودی آئندہ وزیراعظم ہوسکتے ہیں۔ اُنھوں نے کا ’’جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہم ہندوستان یا کسی بھی ملک کی داخلی سیاست میں کوئی مداخلت نہیں کرتے اور کوئی موقف اختیار نہیں کرتے ایک بڑے کثیر ثقافتی و مذہبی، ہمہ جماعتی جمہوریہ میں یہ انتخابی موسم ہے جس میں یہ کوئی قابل حیرت بات نہیں ہے کہ عمل کی تکمیل کیلئے کچھ وقت درکار ہوگا۔ بہرحال ہم کسی بھی آئندہ لیڈر کے ساتھ کام کیلئے تیار ہیں‘‘۔ مودی کے ویزا سے متعلق مسائل پر ایک سوال پر اُنھوں نے جواب دیا کہ ’’ہم ویزا کی قبولیت، درخواستوں وغیرہ کے بارے میں بات نہیں کرتے، چنانچہ اس ضمن میں کہنے کیلئے میرے پاس کچھ نہیں ہے‘‘۔
اوباما کا بیان قابل خیرمقدم : بی جے پی
نئی دہلی 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کو کسی بھی نئی حکومت سے قریبی تعاون کے ساتھ کام کرنے امریکہ کے صدر بارک اوباما کے بیان کا خیرمقدم کرتے ہوئے بی جے پی نے کہاکہ تمام ممالک نئی دہلی میں تشکیل پانے والی نئی حکومت سے تعاون کرے گی۔ بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاؤڈیکر نے آج یہاں کہاکہ ’’اوباما نے جو کچھ کہا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہوا کا رُخ کدھر ہے۔ تمام جمہوریتیں اور تمام ممالک یقینا نئی حکومت کے ساتھ تعاون کریں گی‘‘۔ واضح رہے کہ اوباما نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’ہم ہندوستان کسی بھی آئندہ حکومت کے ساتھ قریبی تعاون سے کام کرنے کیلئے تیار ہیں‘‘۔