امریکی انتخابات میں بیرونی مداخلت ناقابل برداشت

روس کے علاوہ چین، شمالی کوریا اور ایران سے بھی مداخلت کے اندیشے
حکم عاملہ پر صدر ٹرمپ کے دستخط l اپوزیشن ڈیموکریٹس نے حکم عاملہ کو کمزور قرار دیا
واشنگٹن ۔ 13 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک حکم عاملہ پر دستخط کرتے ہوئے امریکی انتخابات میں کسی بھی نوعیت کی بیرونی مداخلت کو برداشت نہ کئے جانے کا اشارہ دیدیا ہے جس کے مطابق دخل اندازی کرنے والے (ممالک) کے خلاف یا مداخلت کرنے کی کوشش کرنے والوں پر بھی تحدیدات عائد کئے جائیں گے۔ صدر موصوف نے کہا کہ وہ امریکہ کی مطلق العنانی کو بیحد عزیز رکھتے ہیں اور صرف صدر موصوف ہی نہیں بلکہ ہر امریکی شہری کو اپنے وطن عزیز سے محبت ہونی چاہئے۔ 2016ء سے یہی کہا جارہا ہیکہ امریکی صدارتی انتخابات میں روس نے مداخلت کرتے ہوئے ایسے حالات پیدا کئے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو ہلاری کلنٹن پر سبقت حاصل ہوجائے۔ ٹرمپ نے کہا کہ انہیں سبقت حاصل ضرور ہوئی لیکن روس کی مداخلت سے نہیں بلکہ ووٹرس کی تائید سے۔ آج میں ایک ایسے حکم عاملہ پر دستخط کررہا ہوں جس کے تحت کسی بھی امریکی انتخابات میں کسی بھی بیرونی کردار یا طاقت کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حکم عاملہ پر دستخط کے بعد ایک بیان دیتے ہوئے انہوں نے یہ بات کہی۔ بات صرف صدارتی انتخابات کی نہیں بلکہ نچلے درجہ کے کم اہمیت والے جتنے بھی انتخابات ہیں ان میں بھی کسی بیرونی طاقت کی دخل اندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس حکم عاملہ کے ذریعہ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہیکہ کسی بھی بیرونی مداخلت والے (ملک) کے خلاف فوری طور پر کارروائی کی جائے گی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ حکم عاملہ میں کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا گیا ہے تاہم نیشنل انٹلیجنس کے ڈائرکٹر ڈان کوٹس نے چین، روس، ایران اور شمالی کوریا کے لئے اندیشے ظاہر کئے ہیں کہ امکانی طور پر یہ ممالک امریکی انتخابات میں راست یا بالواسطہ مداخلت کرسکتے ہیں۔ مسٹر کوٹس نے کہا کہ اب بات صرف روس کی نہیں ہے بلکہ چین اور شمالی کوریا کے علاوہ ایران سے بھی ہمیں یہ اندیشے ہیں کہ وہ امریکی انتخابات (کسی بھی طرز کے) میں مداخلت کرتے ہوئے ووٹرس کو گمراہ کرسکتے ہیں جو نہ صرف امریکہ بلکہ مداخلت کرنے والے ممالک کیلئے بھی سودمند ثابت نہیں ہوگا۔ 2016ء میں جو کچھ ہوا وہ محض ایک سطحی بات تھی جبکہ گہرائیوں میں بہت کچھ ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس حکم عاملہ پر اپوزیشن ڈیموکریٹس نے عدم اطمینانی کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹ مائناریٹی قائد چک شومر نے اس حکم عاملہ کو کمزور قرار دیا اور کہا کہ جس وقت 2016ء میں روسی مداخلت کی بات پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں شہ سرخیوں میں تھی، اس وقت صدر ٹرمپ نے کوئی ٹھوس فیصلہ یا قدم کیوں نہیں اٹھایا؟ ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہئے جس سے یہ ثابت ہوجائے کہ ٹرمپ انتظامیہ کمزور نہیں ہے بلکہ جمہوریت کے تحفظ کیلئے سنجیدہ ہے جس کیلئے الیکشن سیکوریٹی ایکٹ منظور کئے جانے کی ضرورت ہے۔