امریکہ کے سراغ رسانی محکموں کی کارروائیوں میں اضافہ

نیویارک۔ 16؍نومبر (سیاست ڈاٹ کام)۔ روزنامہ ’نیویارک ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ میں جرائم کے انسداد کے لئے 40 سے زیادہ وفاقی محکموں نے اپنی خفیہ کارروائیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ ’نیویارک ٹائمز‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ میں وفاقی حکومت کی جانب سے جرائم کے انسداد کے لئے خفیہ کارروائیوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ 40 سے زیادہ وفاقی محکموں کے خفیہ ملازمین، بزنس مین، ڈاکٹرس، وزراء، سیاسی مظاہرین، طلبہ، وکلاء، اور سماجی کارکنوں کے بھیس میں خفیہ کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشت گردی، انسانی اِسمگلنگ، شناخت خفیہ رکھنے کے بشمول مختلف روایتی مجرمانہ سرگرمیوں کا انسداد کرنا ہے۔ اخبار کے مطابق سپریم کورٹ کے بشمول مختلف مقامات پر ہونے والے مظاہروں میں کئی وفاقی ایجنٹس طلبہ کے بھیس میں مظاہرین میں شامل ہوجاتے ہیں جس کا مقصد مظاہرین کی کسی بھی مشتبہ سرگرمی پر نظر رکھنا ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ ریونیو سرویس میں درجنوں خفیہ ملازمین، منشیات فروش یا اکاؤنٹنٹ کے بھیس میں ٹیکس چوروں کا پتہ لگاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بعض اداروں کے عہدیداروں کا خیال ہے کہ خفیہ کارروائیوں کے ذریعہ ثبوت اِکٹھے کرنے میں زیادہ مدد ملتی ہے جو دوسری صورت میں قانون کے دیگر عام طریقوں سے نہیں ملتی۔ خفیہ کارروائیوں میں رقمی خرد برد، تحقیقات میں سمجھوتے کرنے اور ایجنٹس کے کئی ماہ تک لاپتہ رہنے جیسے مسائل بھی موجود ہیں۔