واشنگٹن۔ 10 مئی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی وزیر دفاع و سابق وزیر اعظم ایہود باراک نے کہا ہے کہ امریکہ چاہے تو ایران کی تمام اٹیمی تنصیبات راتوں رات تباہ کی جا سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام اسرائیلی وجود کیلئے اب بھی خطرہ ہے کیونکہ تہران، تل ابیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے خواب دیکھ رہا ہے۔’یروشلم پوسٹ‘ کے مطابق باراک نے ان خیالات کا اظہار واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل کے لیے اب بھی سنگین خطرہ ہے۔ امریکہ طاقت کے استعمال سے تہران کو جوہری طاقت بننے سے روک سکتا ہے۔ واشنگٹن چاہے تو ایک رات سے بھی کم وقت میں ایران کی تمام ایٹمی تنصیبات تباہ کی جا سکتی ہیں‘‘۔اسرائیلی وزیر دفاع نے چھ بڑی طاقتوں اور ایران کے درمیان گذشتہ برس نومبر میں طے پائے معاہدے پر کڑی نکتہ چینی کی۔
انہوں نے کہا کہ ’’ایرانی چال باز لوگ ہیں۔ انہوں نے عالمی طاقتوں سے معاہدہ کرکے اپنے جوہری مقاصد کو آگے بڑھانے کی راہ ہموار کی ہے، لیکن میں یقین سے کہتا ہوں کہ یہ معاہدہ ایرانیوں کو بچا نہیں پائے گا بلکہ ان کے لیے سخت تکلیف دہ ثابت ہو گا‘‘۔ باراک نے براک اوباما کی ایران کے بارے میں پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اوباما انتظامیہ ایران کو ہر صورت میں جوہری طاقت بننے سے روکنے کے دعوے کر رہی تھی، لیکن اب واشنگٹن کمزوری کا شکارہے۔ صدر اوباما دوسری مدت صدارت کے دوران تہران کے بارے میں نرم پڑتے چلے جا رہے ہیں۔اسرائیلی ریڈیو کے مطابق وزیر دفاع نے اپنے دورہ امریکہ کے دوران وائٹ ہاؤس میں اہم امریکی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں بھی ایران کا جوہری تنازعہ بحث کا اہم موضوع رہا۔خیال رہے اسرائیلی وزیر دفاع کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو روز پیشتر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی ایسا ہی ایک بیان جاری کیا تھا۔ نیتن یاہو کا کہنا تھا کہ ایران اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتا ہے۔ تہران کے جوہری پروگرام کو پرامن مقاصد کیلئے نہیں سمجھنا چاہیے۔ اس کا اصل مقصد اسرائیل کو ختم کرنا ہے۔ تاہم ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے۔