اُردو میڈیم برخواست کرنے کی سازش، اُردو طلبہ داخلہ سے محروم، حکام پر حکومت کا کوئی اثر نہیں
حیدرآباد۔ 25 جولائی (سیاست نیوز) ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کو حکومت کے احکامات کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ دوسری طرف حکومت کو اردو میں انڈرگریجویٹ کورسس کے آغاز سے کوئی دلچسپی نہیں۔ اردو دشمن عہدیداروں نے آخرکار یونیورسٹی میں بی اے، بی کام اور بی ایس سی کورسس کے اردو میں انعقاد کی راہ کو ہمیشہ کے لیے مسدود کردیا ہے۔ گزشتہ سال یونیورسٹی کے اردو دشمن انتظامیہ کی جانب سے بی اے، بی کام اور بی ایس سی کے انڈرگریجویٹ کورسس کو اردو میں لکھنے کی سہولت کو ختم کردیا تھا۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے روزنامہ سیاست کی توجہ دہانی پر وائس چانسلر اوپن یونیورسٹی اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا تھا۔ اجلاس میں یونیورسٹی حکام نے اردو میں نصاب تیار کرتے ہوئے آئندہ سال سے اردو میڈیم کورسس بحال کرنے کا تیقن دیا تھا۔ ابتداء میں نصاب کی تیاری کے لیے کچھ سرگرمیاں دیکھی گئیں لیکن اچانک پھر معاملہ جوں کا توں بحال ہوگیا۔ حکومت کی عدم دلچسپی اور اردو داں طبقہ کے تساہل کے نتیجہ میں یونیورسٹی کو موقع مل گیا کہ اردو میڈیم کا ہمیشہ کے طور پر خاتمہ کردیں۔ ایسا نہیں ہے کہ تلنگانہ میں اردو میڈیم کے طلبہ دستیاب نہیں ہوتے۔ ہزاروں طلبہ کے ساتھ موجود اردو یونیورسٹی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تلنگانہ اردو کے فروغ کے لیے زرخیز زمین ہے۔ اردو میں امتحانات لکھنے سے اردو والوں کو محروم کرنے کے مقصد سے یونیورسٹی نے یہ قدم اٹھایا۔ یونیورسٹی نے تینوں انڈرگریجویٹ کورسس میں آن لائین داخلہ کے لیے تازہ اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں صرف انگلش اور تلگو میں امتحان لکھنے کی سہولت کا ذکر کیا گیا۔ اعلامیہ میں اردو کا کہیں بھی تذکرہ نہیں ہے۔ اس بارے میں یونیورسٹی کے حکام سے ربط پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی خاطرخواہ جواب نہیں ملا۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر اور رجسٹرار کے اطراف مخالف اردو عناصر کا غلبہ ہے جو انہیں اردو میں کورس کے آغاز سے روکے ہوئے ہیں۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کو تیقن دیا تھا کہ اردو میں کورسس کا سلسلہ جاری رہے گا لیکن وائس چانسلر اپنے تیقن پر قائم نہیں رہ سکے۔ بی اے، بی کام اور بی ایس سی کورسس میں آن لائین داخلوں کی آخری تاریخ 9 اگست مقرر ہے۔ حکومت کو اس تاریخ سے قبل فوری مداخلت کرنی ہوگی ورنہ یونیورسٹی میں اردو کورسس ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں گے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اسمبلی میں اردو سے محبت کا بارہا اظہار کرچکے ہیں۔ تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے لیکن افسوس کہ ریاستی حکومت کے تحت چلنے والی یونیورسٹیز میں اردو کا قتل کیا جارہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یونیورسٹی میں پہلے سے اردو کورسس موجود نہیں، موجودہ کورسس کو ختم کرنا اردو دشمنی کی واضح مثال ہے۔ وائس چانسلر سیتاراما رائو نے ڈپٹی چیف منسٹر کے علاوہ اس وقت کے سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل اور حکومت کے مشیر اے کے خان کی موجودگی میں اردو نصابی کتب تیار کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں اردو کورسس کی بحالی حکومت کے لیے چیلنج بن چکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ اردو سے ہمدردی کا اظہار کرنے والی ٹی آر ایس حکومت کس طرح اردو کورسس کو بحال کرے گی۔ اقلیتوں کی نمائندگی کا دعوی کرنے والی جماعتوں اور اردو تنظیموں کی خاموشی اور تساہل بھی حیرت کا باعث ہے۔ اگر اردو داں طبقہ اسی طرح سوتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب عثمانیہ یونیورسٹی سے بھی اردو کی چھٹی کردی جائے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ یونیورسٹی کے ڈائرکٹر اکیڈیمک کا تمام فیکلٹیزکے ساتھ جمعرات کو اجلاس منعقد ہوگا۔ کم از کم اس اجلاس میں اردو کورسس کی بحالی کا فیصلہ کیا جانا چاہئے۔