اردو دشمن عہدیداروں کا غلبہ، حکومت کو دیئے گئے تیقن سے انحراف، صرف انگریزی اور تلگو میں انڈر گریجویٹ کورسیس
حیدرآباد۔/21جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہے لیکن حکومت کو اسٹیٹ یونیورسٹیز میں اردو پر عمل آوری سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں گزشتہ دو برسوں سے اردو میں امتحانات کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ اردو والوں کی جانب سے احتجاج کے بعد حکومت نے مداخلت کی تھی جس پر یونیورسٹی حکام نے اردو نصاب کی عدم دستیابی کا بہانہ بنایا تھا۔ یونیورسٹی نے اردو نصاب کی تیاری کا اعلان کیا لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود آج تک بھی انڈر گریجویٹ کورسیس کا نصاب تیار نہیں ہوا ہے۔ یونیورسٹی نے بی اے، بی کام اور بی ایس سی میں آن لائن داخلوں کیلئے شیڈول جاری کردیا ہے جس میں صرف انگریزی اور تلگو میڈیم کا ذکر کیا گیا اردو میڈیم کا تذکرہ نوٹیفکیشن میں شامل نہیں ہے۔ انڈر گریجویٹ کورسیس میں آن لائن داخلوں کی آخری تاریخ 9 اگسٹ مقرر کی گئی ہے جبکہ دیرینہ فیس کے ساتھ 12اگسٹ تک آن لائن داخلے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ یونیورسٹی نے تینوں کورسیس کیلئے اہلیت اور ٹیوشن فیس کے ساتھ میڈیم کی بھی وضاحت کردی ہیکہ اہلیتی ٹسٹ میں کامیاب امیدوار انگلش یا تلگو میڈیم کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ یونیورسٹی کے اعلامیہ اور پراسپکٹس میں اردو میڈیم کا کہیں بھی تذکرہ نہیں ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ ریاستی حکومت نے نصاب کی تیاری کے سلسلہ میں یونیورسٹی سے کوئی باز پرس نہیں کی۔ نصاب کی تیاری اس قدر مشہور یونیورسٹی کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوسکتی۔ حیدرآباد میں کئی ماہرین موجود ہیں جن کی خدمات حاصل کرتے ہوئے دو تین ماہ میں مکمل نصاب تیار کیا جاسکتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ یونیورسٹی کو اردو میڈیم میں انڈر گریجویٹ کورسیس کے آغاز میں سنجیدگی ہونی چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ نصاب کی تیاری کے سلسلہ میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی سے تعاون حاصل کیا گیا لیکن یہ کام ادھورا رہ گیا۔ تلنگانہ حکومت کے ادارہ اردو اکیڈیمی نے نصاب کی تیاری کا پیشکش کیا لیکن یونیورسٹی آج تک اردو اکیڈیمی سے رجوع نہیں ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یونیورسٹی میں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد کو اردو سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور ان کی اردو دشمنی ہزاروں اقلیتی امیدواروں کے مستقبل سے کھلواڑ کا باعث بن رہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے اردو میڈیم کورسیس کے آغاز کے سلسلہ میں وائس چانسلر کے ساتھ اجلاس منعقد کیا تھا ۔ اسوقت کے سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے بھی یونیورسٹی حکام کو تیقن دیا تھا کہ نصاب کی تیاری میں محکمہ اقلیتی بہبود ہر طرح کے تعاون کیلئے تیار ہے۔ اسوقت تو وائس چانسلر اور رجسٹرار نے اردو میں کورسیس کے آغاز کا وعدہ کیا لیکن گزشتہ دو برسوں سے یونیورسٹی میں اردو کا کوئی چلن نہیں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال اردو میں کونسلنگ کلاسیس کا بھی اہتمام نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ جو کہ ملک میں اردو کا بڑا مرکز ہے اگر یہیں اردو کے ساتھ اس طرح کی ناانصافی کی جائے تو پھر دیگر ریاستوں سے کیا شکایت کی جاسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وائس چانسلر اور رجسٹرار کو بعض ماتحتین اردو میں کورسیس کے آغاز سے روکنے میں کامیاب ہیں اور انہیں یہ کہتے ہوئے گمراہ کیا جارہا ہے کہ اردو میڈیم میں کورسیس کے آغاز سے یونیورسٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور اردو میڈیم طلبہ کی تعداد انتہائی کم رہتی ہے۔ یونیورسٹی پر مالی بوجھ کا اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی کو اردو میڈیم میں انڈر گریجویٹ کورسیس کے آغاز سے روک دیا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت کو چاہیئے کہ فوری اس سلسلہ میں مداخلت کرے۔ اقلیتی طبقہ کے عوامی نمائندوں اور سیاسی جماعتوں و تنظیموں کو بھی اس سلسلہ میں فوری چوکسی اختیار کرنی چاہیئے کیونکہ داخلوں کا عمل شروع ہوچکا ہے اور 12اگسٹ آخری تاریخ ہے۔