الیکشن کمیشن دستوری فریضہ کا جذبہ برقرار رکھنے میں ناکام

ملک میں جمہوریت کے مستقبل کو خطرہ لاحق ، چیف الیکشن کمشنر کو چندرا بابو کی یادداشت
نئی دہلی ۔ 13 ۔ اپریل : ( پی ٹی آئی ) : آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے ہفتہ کو نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ سے ملاقات کرتے ہوئے ایک یادداشت پیش کی جس میں الزام عائد کیا گیا کہ جمعرات کو منعقدہ رائے دہی کے دوران متعدد الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی کارکردگی میں نقائص پائے گئے ۔ علاوہ ازیں خاطر خواہ سیکوریٹی انتظامات نہ ہونے کے سبب پرتشدد واقعات پیش آئے ۔ ووٹنگ سے عین قبل متعدد عہدیداروں کے تبادلوں پر سوال اٹھائے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ مرکزی انتخابی ادارہ آندھرا پردیش میں انتخابات کے دوران دستوری فریضہ و ذمہ داری جذبہ برقرار رکھنے میں ناکام ہوگیا جو ملک میں جمہوریت کے مستقبل کے لیے خطرناک علامت ہے ۔ تلگو دیشم پارٹی نے انتخابات میں بیلٹ پیپر نظام کی دوبارہ واپسی کو یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا ۔ نائیڈو نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ الیکشن کمیشن نے ریاستی چیف الیکٹورل آفیسر ، سریکاکلم ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ، کڑپہ و سریکاکلم کے پولیس سپرنٹنڈنٹس اور ڈائرکٹر جنرل ( انٹلی جنس ) کو کسی جائز وجہ کے بغیر ہی ہٹادیا جس کے نتیجہ میں ریاست کے افسران کی حوصلہ شکنی ہوئی ہے ۔ نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ محض وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے قائدین کی شکایات پر متعلقہ افسران سے کسی وضاحت طلبی کے بغیر ہی ان کے تبادلے کردئیے گئے ۔۔