الینائس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شکاگو میں داخلے

آن لائن تعلیم کی بھی سہولت، جی آر ای اور جی میاٹ میں کامیابی ضروری

حیدرآباد 15 فروری (سیاست نیوز) الینائس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (شکاگو) نے 2015 ء تعلیمی سال کے لئے تین سالہ گریجویشن پروگرام ہندوستانی طلباء کے لئے روشناس کروایا ہے۔ طلباء اِس پروگرام سے استفادہ کے لئے یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے روایتی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں یا پھر ہندوستان میں رہتے ہوئے آن لائن تعلیم بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ فرسٹ کلاس طلباء کے لئے یونیورسٹی نے فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی، میاتھمیٹکس کے علاوہ اقتصادیات میں ماسٹرس ڈگری کے پروگرامس بھی شروع کئے ہیں، جن میں داخلوں کا عمل جاری ہے۔ ڈاکٹر گوسیز ڈائرکٹر اڈمیشنس نے آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران یہ بات بتائی۔ اُنھوں نے بتایا کہ بائیولوجی اور کیمسٹری پروگرامس آئی آئی ٹی میں موجود ہے جس میں فوڈ سیفٹی کے علاوہ ٹیکنالوجی و دیگر شعبوں میں مہارت فراہم کی جاتی ہے۔ مسٹر گوسیز نے بتایا کہ الینائس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا قیام 1890 ء میں عمل میں لایا گیا تھا اور یہ ایک خانگی تحقیقی ادارہ ہے جو گریجویشن اور ماسٹرس کی تعلیم فراہم کررہا ہے۔ علاوہ ازیں آئی آئی ٹی میں موجود شعبوں میں انجینئرنگ، سائنس، آرکیٹکچر، بزنس، ڈیزائن، ہیومن سائنسیس کے علاوہ قانون کی تربیت کے شعبے بھی موجود ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ ہندوستان میں یونیورسٹی کے فی الحال 5 دفاتر خدمات انجام دے رہے ہیں جوکہ حیدرآباد، بنگلور، چینائی کے علاوہ پونے اور ممبئی میں موجود ہیں۔ اُنھوں نے بتایا کہ داخلوں کے حصول کے لئے طلباء کا جی آر ای اور جی میاٹ میں کامیاب ہونا لازمی ہے کیونکہ پروگرام کی نوعیت کے اعتبار سے طالب علم کی صلاحیت کی جانچ ضروری ہے۔ داخلوں کا عمل 15 اپریل سے شروع ہوگا، اِس کے لئے طلباء کو قبل ازوقت تمام تیاریاں مکمل کرلینی چاہئے تاکہ داخلہ کے لئے درخواست کے ادخال میں اُنھیں کوئی دشواری نہ پیش آئے۔ اِس موقع پر اُن کے ہمراہ مسٹر ملہوترہ کے علاوہ مسٹر ڈی وی بھاسکر راؤ ریجنل منیجر موجود تھے۔ مسٹر ڈی وی بھاسکر راؤ نے بتایا کہ یونیورسٹی کی جانب سے مذکورہ پروگرامس کے علاوہ ماحولیات اور مارکٹنگ کے ساتھ ساتھ مواصلاتی نظام پر بھی کورسیس چلائے جارہے ہیں جن میں داخلہ حاصل کرتے ہوئے ہندوستانی طلباء اپنا مستقبل بہتر بناسکتے ہیں۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ الینائس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی جانب سے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے پروگرام بھی چلائے جارہے ہیں۔