اللہ تعالی کے فضل سے تلنگانہ کی تشکیل اور مجھے حج اکبر نصیب : محمود علی

حیدرآباد ۔ 14 اکٹوبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ریاست کے حصول کے بعد حج بیت اللہ کا ارادہ کیا تھا اور اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر احسان ہے اس نے مجھے حج اکبر کی سعادت نصیب فرمائی ۔ آج یہاں چھاپرا انکلیو‘ ٹولی چوکی میںمنعقدہ تہنیتی جلسہ عام سے خطاب کے دوران ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ ریاست جناب الحاج محمد محمود علی ان خیالا ت کا اظہار کررہے تھے ۔ مولانا سید عثمان نقشبندی کی زیرصدارت منعقدہ اس تہنیتی جلسہ عام میں مولانا مظہرحسینی ‘ مولانا مبشر رضوی‘ مولانا سید بدرالدین‘ جناب نورالحق قادری‘ ایم اے وحید آئی اے ایس‘ شیخ صالح ‘ سید سکندر معشوقی ‘ محمد اعظم ‘ ناصر خان ‘ عمر بن قاسم‘ طاہر کمال خوندمیری کے علاوہ ٹی آر ایس پارٹی کے سینکڑوں قائدین نے بھی جناب محمد محمود علی کو تہنیت پیش کی، رحیم اللہ خان نیازی نے جلسہ کی کاروائی چلائی۔ اپنے سلسلہ خطاب کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2001 میں جب میں نے ٹی آر ایس پارٹی میںشمولیت اختیار کی تھی اس وقت میںتلنگانہ ریاست کے حصول پر حج ادا کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اللہ کا فضل وکرم رہا اور تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی اللہ تعالی نے مجھے حج اکبر کی سعادت سے نوازا ۔ انہوں نے کہاکہ متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں مسلمان دوسرے درجہ کے شہری بن کر رہ گئے تھے اور آندھرا پردیش مسلمانو ںکے لئے آندھیرا پردیش میں تبدیل ہوگیا تھا ، مگر تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی کے سربراہ اور چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کی چودہ سالہ جدوجہد کے بعد علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔ جناب الحاج محمد محمو دعلی نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل اور سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے لئے مسٹر کے سی آر کے سیکولر نظریات نے تلنگانہ کے مسلمانوں کے حالات کو یکسر تبدیل کردیا ۔ جہاں پر متحدہ ریاست آندھرا پردیش میںمسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا تھا وہیں پر علحدہ ریاست تلنگانہ میںبرسر اقتدار انے کے بعد مسلمانوں کے نمائندے کی حیثیت سے مجھے ریاست کانائب وزیر اعلی بناکر تلنگانہ میں مسلمانوں کے وقار کو بلند کردیا ۔ جناب الحاج محمد محمو دعلی نے کہاکہ آج پرانے شہر میں اگر کوئی مسلمان کسی پولیس اسٹیشن کو جاتا ہے تواسکو عزت کی نظر دیکھا جارہا ہے اور مسلمانوں کے ساتھ سابق میں جو رویہ برتا جاتا تھا اس کو ختم کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ راشٹرایہ سمیتی کا مقصد سنہری تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے ذریعہ آصف جاہ دور کا تلنگانہ میںاحیاء عمل میں لانا ہے تاکہ ریاست کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بحال کیاجاسکے۔ جنا ب الحاج محمد محمود علی نے علماء ‘ مشائخین کی جانب سے تہنیتی کی پیش کش کو اپنے لئے ایک بڑا اعزاز قرار دیتے ہوئے تمام کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے اپنی تقریر کے آخر میںکہاکہ آئندہ ماہ ریاستی وقف بورڈ ‘ اُردو اکیڈیمی اور میناریٹی فینانس کارپوریشن کے چیرمنس کا انتخاب عمل میں لاتے ہوئے ریاست کے اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں کو حکومت کی فلاحی اسکیمات سے موثر انداز میںمستفید کرنے کاکام کیا جائے گا۔