العزیزیہ مقدمہ میں نواز شریف کو سات سال قید با مشقت کی سزا

سابق وزیر اعظم فوری حراست میں لے لئے گئے۔ 10 سال تک عوامی عہدہ رکھنے پر بھی پابندی ۔ 1.5 بلین روپئے کا جرمانہ ۔ فلیگ شپ مقدمہ میں برا ء ت

اسلام آباد 24 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان میں انسداد رشوت ستانی کی ایک عدالت نے آج سبکدوش وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز رشوت کیس میں سات سال قید کی سزا سنائی تاہم انہیں فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرینس میں بری کردیا گیا ۔ نواز شریف اور افراد خاندان کے خلاف پناما پیپرس اسکینڈل کے سلسلہ میں تین مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ ایک مقدمہ اوین فیلڈ پراپرٹیز کا تھا ‘ دوسرا فلیگ شپ انویسٹمنٹ کا تھا اور تیسرا العزیزیہ اسٹیل ملزم کا تھا ۔ یہ مقدمات شریف خاندان کے خلاف قومی احتساب بیورو نے شروع کئے تھے ۔ ان مقدمات کی شروعات 8 ستمبر 2017 کو ہوئی تھی ۔ اسی سال جولائی میں پاکستان کی سرپیم کورٹ نے نواز شریف کو نا اہل قرار دیدیا تھا ۔ احتاسب عدالت دوم کے جج محمد ارشد ملک نے آج نواز شریف کے خلاف رشوت کے دو مقدمات میں فیصلہ سنایا ۔ ایک میں انہیں بری کردیا گیا جبکہ دوسرے میں انہیں سات سال قید کی سزا سنائی گئی ۔ ان مقدمات پر فیصلہ 19 ڈسمبر کو محفوظ کرلیا گیا تھا ۔ جج ارشد ملک نے کہا کہ 68 سالہ سابق وزیر اعظم کے خلاف العزیزیہ کیس میں واضح ثبوت موجود ہیں اور وہ العزیزیہ اسٹیل ملز قائم کرنے کیلئے استعمال کئے گئے فنڈز کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ ملز سعودی عرب میں قائم کی گئی تھی ۔ نواز شریف خاندان نے 2001 میں یہ مل قائم کی تھی ۔ بعد میں ہل میٹل اسٹابلشمنٹ بھی سعودی عرب میں قائم کی گئی تھی ۔ العزیزیہ کیس میں اپنے 131 صفحات پر مشتمل فیصلے میں جج نے رولنگ دی کہ نواز شریف کو سات سال قید بامشقت کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ ان پر 1.5 بلین روپئے اور 25 ملین امریکی ڈالرس کا جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہل میٹل اسٹابلشمنٹ کے تمام اثاثہ جات ‘ جائیدادیں ‘ حقوق ‘ وصولیاں وغیرہ اب وفاقی حکومت کے حق میں ضبط کی جا رہی ہیں۔ وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری حکومت سعودی عرب سے رجوع ہو تاکہ ان احکام پر عمل آوری ہوسکے اور پھر بعد میں عدالت میں اس کی رپورٹ پیش کی جاسکے ۔ کہا گیا ہے کہ نواز شریف کے خاندان نے سعودی عرب میں العزیزیہ مل کو فروخت کرنے کے بعد ہل میٹل اسٹابلشمنٹ کا قیام عمل میں لایا تھا ۔ جج ملک نے تاہم کہا کہ فلیگ شپ کیس میں نواز شریف کو خاطی قرار نہیں دیا جاسکتا اور اس میں ان کے خلاف کوئی ثبوت و شواہد موجود نہیں ہیں۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت سابق وزیر اعظم عدالت میں موجود تھے اور انہیں فوری حراست میں لے لیا گیا ۔ نواز شریف کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے موکل کو کوٹ لکھ پت کی جیل بھیجا جائے اڈیالہ جیل نہیں۔ ان کی اس درخواست کو قبول کرلیا گیا ۔ نواز شریف کو یہ اختیار ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں۔ انہیں 10 سال کیلئے کوئی عوامی عہدہ رکھنے کیلئے بھی نااہل قرار دیدیا گیا ہے ۔ نااہلی کی معیاد کا سات سال جیل کی سزا پوری کرکے رہائی کے بعد سے اطلاق ہوگا ۔ جولائی 2018 میں نواز شریف ‘ ان کی دختر مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کو اوینفیلڈ مقدمات کیس میں گیارہ سال ‘ آٹھ سال اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ یہ مقدمہ لندن میں بدعنوانیوں کے ذریعہ حاصل کردہ دولت سے فلیٹس خریدنے سے متعلق تھا تاہم ان تینوں کو ماہ ستمبر میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے ضمانت فراہم کردی تھی ۔ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف کرپشن کے مقدمات کی سماعت کی تکمیل کیلئے 24 ستمبر تک کی مہلت دی تھی ۔ فیصلے کے بعد احتساب بیورو نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلیگ شپ کیس میں نواز شریف کی برات کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل کریگا ۔