اقوام متحدہ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ’’انتھک‘‘ ہونی چاہئے اور عالمی برادری چُن چُن کر مقابلہ کرنے کا رویہ دہشت گرد گروپس سے مقابلہ کے لئے اور اُن کے انفراسٹرکچر تباہ کرنے کے سلسلہ میں استعمال نہیں کرسکتی۔ اُنھوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیاکہ وہ دہشت گردی کی لعنت کو قطعی برداشت نہ کرے۔ ہندوستان کے مستقل سفیر برائے اقوام متحدہ اشوک مکرجی نے سلامتی کونسل کے ’’بین الاقوامی تعاون برائے دہشت گردی و پرتشدد انتہا پسندی کا مقابلہ‘‘ کے عنوان پر کھلے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ دہشت گردی کا انفراسٹرکچر بشمول عملی انفراسٹرکچر کے علاوہ مالی اور نظریاتی نیٹ ورکس ایک خلاء میں قائم نہیں ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ نتیجہ اخذ کرنا ناگزیر ہے کہ رکن ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اُن کے خود مختار علاقہ کے انسداد کے لئے تیز رفتار کارروائی کرے اور اُنھیں اپنی سرزمینیں استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔ کوئی بھی رکن ملک دہشت گردی کے خطرہ اور اُس کے انفراسٹرکچر سے لاتعلق نہیں رہ سکتا۔ اُنھوں نے کہاکہ چنانچہ فوری طور پر دہشت گردی اور اُس کے انفراسٹرکچر کو ختم کردینا چاہئے تاکہ قیامت کے منظر سے بچا جاسکے۔ اُنھوں نے کہاکہ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور اقوام متحدہ کو اِسے ہرگز برداشت نہ کرنا چاہئے بلکہ اِس کا کامیابی سے مقابلہ کرنا چاہئے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہمیں ایک بار پھر اِس پختہ ارادہ کا اعلان کرنا چاہئے کہ دہشت گردی سے تمام محاذوں پر جنگ انتھک ہوگی۔ فوری طور پر جو سبق ہم سیکھ سکے ہیں وہ یہی ہے کہ بین الاقوامی برادری دہشت گرد گروپس سے نمٹنے اور اُن کے انفراسٹرکچرس تباہ کرنے میں انتخاب کرنے کا طریقہ استعمال نہیں کرسکتی۔ دہشت گردی کا کوئی جواز نہیں ہے۔ غیر ملکی دہشت گرد جنگجو صرف تازہ مسئلہ نہیں ہیں۔ اِسے سلامتی کونسل کی جانب سے قانونی اور دستیاب اطلاعاتی طریقوں سے کچل دیا جانا چاہئے۔ بین الاقوامی امن اور سلامتی کی برقراری ضروری ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ بین الاقوامی دہشت گردی پر سلامتی کونسل کا ایک جامع کنونشن منعقد کیا جانا چاہئے تاکہ رکن ممالک کو یا تو قانونی طور پر ذمہ دار قرار دیا جائے یا پھر اُنھیں دہشت گردی کو اپنی سرزمین سے خارج کرنے پر مجبور کیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ تنازعہ سے متاثرہ ممالک کو ہزاروں غیر ملکی جنگجو منتقل ہورہے ہیں اور دولت اسلامیہ جیسی تنظیمیں نئے غیرقانونی ذرائع سے مالیہ حاصل کررہی ہیں۔