حیدرآباد ۔ 4 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ کمیشن آف انکوائری کے سبب اقلیتی کمیشن کی تشکیل کا معاملہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جاریہ ماہ اقلیتی کمیشن کی تشکیل کا منصوبہ رکھتے تھے، اس سلسلہ میں کئی ناموں پر غور کیا جارہا تھا، جن میں بعض سینئر آئی اے ایس عہدیداروں کے نام بھی شامل تھے۔ تاہم صدرنشین کے عہدہ کیلئے مختلف گوشوں سے جاری سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے لمحہ آخر میں اپنا ذہن تبدیل کردیا۔ کمیشن کے قیام کے بجائے علحدہ کمیشن آف انکوائری قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ تلنگانہ میں اقلیتوں کی معاشی ، تعلیمی اور سماجی صورتحال پر رپورٹ حاصل کی جاسکے۔ ریٹائرڈ آئی اے ایس عہدیدار جی سدھیر کی صدارت میں کمیشن آف انکوائری قائم کیا گیا ہے جبکہ اس کے ایک رکن ریٹائرڈ لکچرر ایم اے باری ہیں۔ دوسرے رکن کا ابھی انتخاب باقی ہے۔ انکوائری کمیشن سے مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں بھی رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت انکوائری کمیشن کے قیام اور اسے تحفظات کا مسئلہ رجوع کرنے پر قانونی ماہرین نے اعتراضات جتائے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کسی بھی طبقہ کی سماجی ، معاشی اور تعلیمی پسماندگی کا جائزہ لینے کیلئے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت ادارہ قائم نہیں کیا جاسکتا۔
کسی حادثہ یا واقعہ کی جانچ کیلئے اس ایکٹ کے تحت تحقیقاتی کمیشن قائم کیا جاسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تحفظات کی فراہمی کیلئے حکومت کو علحدہ بی سی کمیشن تشکیل دینا چاہئے ہوگا، جس کی سفارش کی بنیاد پر ہی کوئی بھی حکومت تحفظات فراہم کرنے کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ تحفظات کی فراہمی کیلئے کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ قابل قبول نہیں ہوسکتی ۔ 2004 ء میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے عثمانیہ یونیورسٹی اور اس وقت کے اقلیتی کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر 5 فیصد تحفظات فراہم کئے تھے۔ تاہم عدالت نے اسے کالعدم کردیا ۔ ہائی کورٹ کا استدلال تھا کہ بی سی کمیشن کے بغیر تحفظات کی فراہمی ممکن نہیں۔ بعد میں وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے ڈی سبرامنیم ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کی قیادت میں تین رکنی بی سی کمیشن قائم کیا تھا جس کی رپورٹ ملنے کے بعد 4 فیصد تحفظات فراہم کئے گئے۔ یہ معاملہ ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم تحفظات پر عمل آوری کے سلسلہ میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے حکومت نے کمیشن آف انکوائری کے قیام کا فیصلہ کیا ہے لیکن یہ اقدام مسلم تحفظات کی فراہمی میں معاون ثابت نہیں ہوسکتا۔