اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی ٹھپ ، بجٹ کا خرچ ہونا ناممکن

مالیاتی سال کے اختتام کے لیے صرف ایک ماہ باقی ، اسکیمات پر رہنمایانہ خطوط کی عدم اجرائی
حیدرآباد۔/6فبروری، ( سیاست نیوز) اب جبکہ جاریہ مالیاتی سال کے اختتام کیلئے صرف ایک ماہ باقی رہ گیا ہے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی کارکردگی کا عملاً آغاز نہیں ہوا۔ کارپوریشن کی کسی بھی اسکیم پر عمل آوری کا آغاز نہیں ہوسکا جس کے باعث جاریہ سال کے بجٹ کے خرچ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی دو اہم اسکیمات میں بینک قرض سے مربوط سبسیڈی کی فراہمی اسکیم اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم ہے۔ جاریہ سال ابھی تک دونوں اسکیمات کا آغاز نہیں ہوسکا کیونکہ حکومت نے اس کے لئے ابھی تک رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے۔ بجٹ میں دونوں اسکیمات کیلئے رقم مختص کی گئی لیکن کارپوریشن اسکیمات کے آغاز کے موقف میں نہیں ہے۔ بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کیلئے 76کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جن میں سے 12کروڑ 34لاکھ روپئے جاری کئے گئے۔ سبسیڈی فراہمی سے متعلق اسکیم کے رہنمایانہ خطوط کی اجرائی حکومت کی جانب سے باقی ہے۔ بی سی طبقہ کیلئے حکومت نے اس اسکیم کے قواعد کا اعلان کردیا لیکن اقلیتی طبقہ کیلئے رہنمایانہ خطوط جاری نہیں کئے گئے۔ کارپوریشن کی جانب سے اس سلسلہ میں توجہ دہانی کے باوجود حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی جس کے باعث جاریہ سال اسکیم پر عمل آوری کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس اسکیم کے تحت گزشتہ سال کارپوریشن نے جن امیدواروں کو سبسیڈی کی اجرائی کا فیصلہ کیا تھا ان کی درخواستوں کی دوبارہ جانچ کی ہدایت دی گئی اور کارپوریشن ان درخواستوں کی دوبارہ جانچ اور سبسیڈی کی رقم جاری کرنے میں مصروف ہے۔ چونکہ گزشتہ سال کی سبسیڈی کی اجرائی مکمل نہیں ہوئی لہذا جاریہ سال باقی ایک ماہ میں اسکیم پر آغاز ناقابل عمل ہے۔ دوسری اہم اسکیم ایمپلائمنٹ و ٹریننگ کے ذریعہ اقلیتی طلبہ کو سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے ذریعہ مختلف روزگار سے مربوط کورسیس میں ٹریننگ کا اہتمام کیا جاتاہے۔ گزشتہ سال میں سرکاری ادارہ اپیٹکو اور بعض خانگی اداروں کے ذریعہ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے اضلاع میں اقلیتی طلبہ کو ٹریننگ کا اہتمام کیا گیا تھا لیکن ٹریننگ کی تکمیل کے چھ ماہ گزرنے کے باوجود ان اداروں کو رقم جاری نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائرکٹرس کی جانب سے بعض اعتراضات کے سبب اپیٹکو کو ٹریننگ کا معاوضہ جاری نہیں کیا گیا۔ متحدہ آندھرا پردیش کے23اضلاع میں جملہ 4کروڑ 21لاکھ روپئے کی اجرائی باقی ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کی اجازت کا انتظار ہے۔ جاریہ سال اس اسکیم کے تحت بجٹ میں 18کروڑ 22لاکھ روپئے مختص کئے گئے جبکہ 55لاکھ روپئے جاری ہوئے۔ اس کے علاوہ حکومت نے ایک کروڑ 5لاکھ کی اجرائی کے احکامات جاری کئے تاہم یہ رقم ابھی تک کارپوریشن کے اکاؤنٹ میں نہیں پہنچی۔ گزشتہ سال ٹریننگ کے بقایا جات کی ادائیگی کے بعد 45لاکھ روپئے کارپوریشن کے پاس موجود ہیں اس طرح کارپوریشن بجٹ کی کمی کے باعث ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کے آغاز کے موقف میں نہیں ہے۔ اگر کارپوریشن کے پاس 2کروڑ روپئے کا بجٹ موجود ہو تو اسی وقت دونوں ریاستوں میں اقلیتی نوجوانوں کیلئے پیشہ ورانہ کورسیس میں ٹریننگ کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بجٹ کی اجرائی اندرون ایک ماہ ممکن نہیں لہذا جاریہ سال سبسیڈی اور ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ممکن نہیں ہوگا۔ اس طرح اقلیتوں سے متعلق دو اہم اسکیمات کا بجٹ جاریہ سال سرکاری خزانہ میں واپس چلا جائے گا۔